چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، انتہا پسندانہ بیانیوں اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے والی تقسیم پسند عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور اپنے عزم پر قائم ہے۔ یہ بیان انہیں گوجرانوالہ اور سیالکوٹ گیریژن کے اہم دورے کے دوران دیا جہاں انہوں نے مختلف فارمیشنز کی جنگی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کو دورے کے دوران آپریشنل استعداد میں اضافے اور دفاعی حکمتِ عملی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ فارمیشنز نے تربیتی مشقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور جنگی صلاحیت میں بہتری کے لیے نئی تکنیکیں استعمال کی ہیں جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
فیلڈ مارشل نے فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز، مشقوں کے میدان اور جدید سمیولیٹر ٹریننگ سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے تربیتی معیارات، سرجیکل جنگی ردعمل کی رفتار، اور جدید جنگی حالات کو سمجھنے کے لیے بنائی گئی سمیولیٹر ٹیکنالوجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے دفاعی ماحول میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنا از حد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی جنگیں صرف توپ و تفنگ سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، حکمت عملی، ڈیٹا اور بروقت فیصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔
انہوں نے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی، ان کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ عزم اور ملک کے دفاع کے لیے غیر متزلزل جذبے کو سراہا۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ سخت، منظم اور مقصد پر مبنی تربیت ہی وہ بنیاد ہے جو فوج کو ہر طرح کے محاذ پر کامیابی فراہم کرتی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاک فوج قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازش، شدت پسند بیانیے یا انتشار پھیلانے والی قوتوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن چاہے بیرونی ہو یا اندرونی، پاک فوج اس کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
گوجرانوالہ پہنچنے پر کور کمانڈر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس دورے اور بیان سے واضح ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت ملک میں پیدا ہونے والے داخلی انتشار، انتہا پسندی اور بیرونی دباؤ کو شدید تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا یہ دو ٹوک پیغام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ملک میں پایا جانے والا سماجی و سیاسی تناؤ محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ فوج کا جدید جنگی ماحول کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر زور دینا ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں زیادہ پیچیدہ ہوں گی اور اس کے لیے محض روایتی دفاع کافی نہیں ہوگا۔
یہ پیغام نہ صرف دشمن قوتوں کے لیے وارننگ ہے بلکہ داخلی سطح پر اتحاد، نظم اور ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ فیلڈ مارشل کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوج کسی بھی سیاسی یا سماجی تقسیم کے نتیجے میں ملک کو غیر مستحکم ہونے نہیں دے گی اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے والی قوتوں کا راستہ ہر صورت روکا جائے گا۔
عوامی رائے
عام شہریوں نے سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس وقت کی ضرورت تھا جب ملک مختلف سمتوں میں کھنچ رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ ریاستی اداروں کا متحد ہونا ملک کے مفاد میں ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد نے یہ بھی کہا کہ قومی استحکام صرف فوجی عزم سے نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، شفاف حکمرانی اور آئینی راستوں سے بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر عوامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات کے مقابلے میں فوج کا مضبوط اور واضح موقف اطمینان کا باعث بنتا ہے۔
میری رائے
میرے نزدیک فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ پیغام ریاستی سطح پر استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ انتہا پسندانہ نظریات اور تقسیم پیدا کرنے والی قوتیں کسی بھی ملک کی بنیادیں ہلا سکتی ہیں، اس لیے ان کے مقابلے کے لیے مضبوط عسکری تیاری، جدید حکمتِ عملی اور سیاسی قیادت کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ فوج کا ٹیکنالوجی اور جدید تربیت پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نئے عالمی دفاعی چیلنجز کو سمجھتے ہوئے اپنا نظام مزید مؤثر بنا رہا ہے۔
آپ فیلڈ مارشل کے اس بیان کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔





















