سڈنی حملے میں دہشت گرد کی شناخت نے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کردیا

پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ناکام، آسٹریلوی میڈیا اور عینی شاہد کے اہم انکشافات

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے خونی واقعے نے جیسے ہی دنیا بھر میں تہلکہ مچایا، بھارتی میڈیا نے فوری طور پر اسے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کی، مگر چند گھنٹوں بعد حقائق نے تمام پراپیگنڈا کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ تازہ انکشافات کے مطابق فائرنگ کرنے والا مسلح شخص پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی نژاد نکلا، جبکہ اس کی والدہ کا تعلق اٹلی سے تھا۔ یہ معلومات حملہ آور کے قریبی ساتھی نےاعترافی گفتگو میں فراہم کیں۔

آسٹریلوی چینل ‘نائن ناؤ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے شوٹر کے ساتھی نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا نوید اکرم بھارت نژاد ہے جبکہ اس کے والد ساجد اکرم بھی بھارتی پس منظر رکھتے تھے۔ اس اعتراف نے عالمی سطح پر پھیلے اس تاثر کو پل بھر میں بدل کر رکھ دیا کہ یہ حملہ پاکستان سے جڑا کوئی واقعہ تھا۔

بھارتی میڈیا کا منظم جھوٹ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب

واقعے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر من گھڑت تصاویر، جھوٹی شناخت اور گمراہ کن معلومات پھیلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔ لیکن جیسے ہی حملہ آوروں کی اصل شناخت سامنے آئی، بھارتی پروپیگنڈا شدید تنقید کی زد میں آ گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے بعض اداروں اور میڈیا نے ایک انسانی سانحے کو سیاسی و سفارتی ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عالمی صحافتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

حقیقی کہانی

جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کے برخلاف دنیا بھر میں سب سے زیادہ توجہ اس آسٹریلوی مسلمان شہری احمد ال احمد پر مرکوز رہی، جس نے اپنی جان پر کھیل کر ایک حملہ آور کو قابو کیا اور مزید جانی نقصان روکنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
احمد ال احمد کے بہادرانہ اقدام کو عالمی میڈیا نے خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں “Bondi Beach Hero” کے لقب سے نوازا۔

سانحے کی تفصیلات

بونڈی بیچ پر یہودیوں کے مذہبی تہوار ’حنوکا‘ کے موقع پر دو حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس سے 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرا زندہ گرفتار ہوا۔
واقعے کے بعد پورا علاقہ سیل کر دیا گیا اور حکام نے عوام کو ساحلی مقام سے دور رہنے کی ہدایات جاری کیں۔

پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کیوں؟

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی بیانیے کے باعث بھارت نے اس سانحے کو ایک موقع سمجھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، جس سے توجہ اس حقیقت سے ہٹانی تھی کہ عالمی دہشت گردی کسی قوم، مذہب یا سرحد تک محدود نہیں۔

پاکستانی حکام اور عالمی مبصرین نے واضح کیا کہ ایک فرد کے جرم کا الزام پوری قوم یا مذہب پر تھوپنا انتہائی خطرناک رویہ ہے، جو مزید نفرت اور انتشار کو جنم دیتا ہے۔

سڈنی حملے کے بعد سامنے آنے والے حقائق اس بات کی سخت یاد دہانی ہیں کہ میڈیا کی غیر ذمہ داری، سیاسی مفادات اور جھوٹا پروپیگنڈا حقیقی انسانی المیوں کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے بغیر تصدیق پاکستان کو بدنام کرنے کی جو مہم چلائی، وہ نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاس ہے بلکہ اس خطے میں نفرت کے بیانیے کو مزید ہوا دینے کے مترادف بھی ہے۔

اس واقعے نے عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر کب تک دہشت گردی کو مخصوص قوموں اور مذاہب سے جوڑا جاتا رہے گا؟ حملہ آور بھارتی نژاد ہونے کے باوجود کسی مذہبی پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا—یہ دوہرا معیار انسانی جانوں سے بھی بڑی منافقت دکھاتا ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر عوام کی بڑی تعداد نے اس انکشاف کے بعد بھارتی میڈیا اور پروپیگنڈا بریگیڈ پر شدید تنقید کی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ غلط بیانی کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنا اب ایک معمول بن چکا ہے، مگر بار بار ناکامی نے دنیا کو اس کھیل سے اچھی طرح آگاہ کر دیا ہے۔
کئی صارفین نے احمد ال احمد کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا تعلق مذہب سے نہیں، کردار سے ہوتا ہے—اور ہیرو ہر قوم میں موجود ہوتے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ سڈنی حملے میں سامنے آنے والے حقائق، بھارتی میڈیا کے کردار اور احمد ال احمد کی بہادری کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین