سانحہ اے پی ایس کا اصل انصاف کیا ہے؟ وزیراعظم نے واضح کر دیا

شہدا کی قربانیاں ہمیشہ ہماری قومی داستان کا حصہ رہیں گی

اسلام آباد:سانحۂ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہی اس المناک سانحے کے شہدا کے ساتھ حقیقی انصاف کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن قوم کو یاد دلاتا ہے کہ معصوم جانوں کے اس بے رحم قتلِ عام نے پاکستان کی تاریخ پر ایک گہرا زخم چھوڑا، جسے وقت تو دھندلا سکتا ہے مگر قوم کی یادداشت سے کبھی محو نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم آج بھی ان ننھے شہیدوں، اساتذہ اور عملے کے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے پاکستان کے مستقبل کو روشن رکھنے کے لیے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ قومی تاریخ کا ایک کڑا امتحان تھا، جس نے ملک کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا، مگر دہشتگردوں کے مکروہ عزائم پاکستانی قوم کے حوصلے کو شکست نہ دے سکے۔

شہباز شریف نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں ہمیشہ ہماری قومی داستان کا حصہ رہیں گی اور ریاست کا فرض ہے کہ ان قربانیوں کا احترام صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے بغیر اے پی ایس سانحے کے شہدا کا مقدمہ ادھورا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ایک بار پھر دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ہمیں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی اور اس جنگ میں کوئی نرمی یا کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملک کے امن، استحکام اور شہدا کے خون کا تقاضا ہے کہ ریاست پوری قوت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے۔

آخر میں وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ میں جان قربان کرنے والے تمام شہدا کو بلند درجات عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ دے۔

وزیراعظم کا یہ پیغام نہ صرف ریاستی عزم کا اظہار ہے بلکہ یہ قوم کو یاد دلاتا ہے کہ سانحۂ اے پی ایس کوئی عام واقعہ نہیں تھا بلکہ اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ایک نئی سمت دی۔ 11 سال گزرنے کے باوجود یہ سانحہ آج بھی پاکستان کی اجتماعی سوچ اور پالیسیوں پر اثرانداز ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا دعویٰ ابھی قبل از وقت ہے، لیکن ریاستی سطح پر مضبوط موقف، عوامی یکجہتی اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اس جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ سیاسی استحکام بھی برقرار رہے تو دہشتگردی کے خاتمے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا اور عام گفتگو میں عوام کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اے پی ایس سانحہ آج بھی ان کے دلوں میں تازہ ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے سے کم کوئی بات شہدا کے والدین کے لیے تسلی نہیں ہو سکتی۔
کئی صارفین نے وزیراعظم کے بیان کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عملی اقدامات بیانات سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک صف میں کھڑی نہیں ہوں گی، دہشتگردی کے خلاف جنگ ادھوری رہے گی۔
متعدد افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم دہشتگردی کے سامنے کبھی جھکنے والی نہیں۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

آپ کے خیال میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سب سے اہم قدم کیا ہونا چاہیے؟
کمنٹ میں اپنی رائے ضرور تحریر کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین