فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی لیبیائی مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات

لیبیائی فوج کے چاق و چوبند دستے نے فیلڈ مارشل کا بھرپور گارڈ آف آنر پیش کیا

راولپنڈی(رمیض حسین):فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لیبیا کی اعلیٰ عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرأت، جو چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، سرکاری دورے پر لیبیا پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

لیبیا آمد پر لیبیائی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سینئر عسکری حکام بھی موجود تھے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی، جبکہ ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر بھی ملاقات میں شریک تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے تربیت، استعداد کار میں اضافے، دفاعی تعاون اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبوں میں روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور لیبیا کے درمیان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ روابط کو مضبوط کرنا لیبیا کے عسکری ڈھانچے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا

ماہرین کی رائے

دفاعی تجزیہ کاروں اور خطے کے ماہرین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیبیا کے دورے کو پاکستان کی دفاعی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ عسکری امور کے سینئر تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سلیم محمود کے مطابق اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ لیبیا طویل عرصے سے سیاسی اور عسکری عدم استحکام کا شکار ہے، اور ایسے ماحول میں پاکستان جیسے مستحکم دفاعی نظام کے حامل ملک سے تعاون لیبیا کے لیے مضبوط سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے“پاکستان کی مسلح افواج خطے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار رکھتی ہیں۔ لیبیا کے لیے تربیت، مشاورت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون حاصل کرنا نہایت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔”

بین الاقوامی سیکیورٹی امور کی ماہر پروفیسر اریبا قریشی اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی نئی بنیاد قرار دیتی ہیں۔ان کے مطابق“گزشتہ چند برسوں میں لیبیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ فعال نہیں رہے، ایسے میں اس اعلیٰ سطح کی ملاقات سے نہ صرف باہمی تعاون بڑھے گا بلکہ پاکستان کو شمالی افریقہ میں ایک مضبوط سفارتی کردار بھی حاصل ہو سکتا ہے۔”

دفاع اور خارجہ پالیسی کے ماہر ڈاکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ خطے میں بدلتی صورتحال اور افریقہ میں دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں پاکستان اور لیبیا کا دفاعی اشتراک وقت کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں“لیبیا میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے پاکستان کی تربیتی معاونت انتہائی موثر ثابت ہوگی۔ یہ تعاون دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔”

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا لیبیا کا سرکاری دورہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کا ماحول تیزی سے بدل رہا ہے۔ لیبیا برسوں کی خانہ جنگی اور داخلی تقسیم کے باعث عسکری عدم استحکام کا شکار رہا ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ایک تجربہ کار اور مستحکم فوجی قوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون نہ صرف باہمی فوائد رکھتا ہے بلکہ وسیع تر علاقائی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے۔

اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ لیبیا اپنی فوج کی تنظیم نو، تربیت اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مضبوط شراکت دار تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوج انسداد دہشت گردی کے طویل تجربے، جدید تربیتی صلاحیتوں اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ پیشہ ورانہ معیار کی حامل ہے، جس کے باعث لیبیا کے ساتھ تعاون دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے موضوعات، خطے کی سیکیورٹی اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں مشترکہ مشقوں، عسکری تربیت اور ہتھیاروں کے نظام سے متعلق تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ رابطے پاکستان کے افریقی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی اور دفاعی تعلقات کا تسلسل بھی ہیں، جسے کچھ ماہرین پاکستان کی ’’افریقہ پالیسی‘‘ کے تحت ایک کامیاب قدم قرار دیتے ہیں۔

اس دورے کے ذریعے پاکستان نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی پر اپنا فعال کردار برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب لیبیا کے لیے یہ تعاون داخلی سیکیورٹی اور دفاعی استحکام کی بحالی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اگر اس تعاون کو مستقل اور عملی شکل دی گئی تو پاکستان اور لیبیا نہ صرف عسکری سطح پر قریب آسکتے ہیں بلکہ سیاسی و سفارتی میدان میں بھی نئے مواقع جنم لے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین