اے آئی نے کئی شعبوں کی نوکریاں کھا لیں، بیروزگاری بڑھ گئی، حکومت پریشان

اے آئی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے واضح فریم ورک اور پیشہ ورانہ اپ اسکیلنگ کی ضرورت ہے

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ: محمدناصر بٹ)ٹیکنالوجی کی دنیا تیز رفتاری سے بدل رہی ہے اور ہر روز مصنوعی ذہانت (AI) کے نئے معجزات سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن جیسے ہی اے آئی تخلیقی صنعتوں میں قدم رکھتی ہے، ویسے ہی کئی پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے نئے چیلنج پیدا ہو جاتے ہیں۔ اشتہارات، میڈیا اور تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والے لوگ اب ایک ایسے دور کا سامنا کر رہے ہیں جہاں مشینی ذہانت اور انسانی تخلیقیت کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے تخلیقی شعبوں میں روزگار کے مسائل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اشتہاری اور میڈیا کے شعبے میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کانٹینٹ کریئیٹرز، گرافک ڈیزائنرز، ایڈیٹرز، کریئیٹو ڈائریکٹرز، اداکار، اداکارائیں، ماڈلز، ٹیکنیشنز اور کیمرا مین سمیت تخلیقی افرادی قوت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو کئی تخلیقی پیشے متروک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، اور اس مسئلے کا پالیسی سطح پر حل ضروری ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ تخلیقی پیشہ ور افراد کے تحفظ اور روزگار کے تسلسل کے لیے قابل عمل تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے اور تخلیقی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے عوام اور اسٹیک ہولڈرز اپنی تجاویز [email protected]
پر ارسال کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی آرا کی روشنی میں اقدامات کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے واضح فریم ورک اور پیشہ ورانہ اپ اسکیلنگ کی ضرورت ہے۔ آخر میں انہوں نے تخلیقی طبقے پر زور دیا کہ وہ اپنی تجاویز بروقت ارسال کریں تاکہ ایک موثر حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد ناصر بٹ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر دن نیا انقلاب آ رہا ہے، اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ان میں سب سے زیادہ متنازع اور دلچسپ موضوعات میں سے ایک بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف اے آئی نے کاروباری عمل کو تیز، سستا اور مؤثر بنایا ہے، وہیں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے تخلیقی صنعت کے کئی شعبوں میں روزگار کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ رجحان واضح ہوتا جا رہا ہے، اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیا کہ اشتہارات اور میڈیا کی صنعت میں اے آئی کے بڑھتے استعمال سے تخلیقی افرادی قوت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کانٹینٹ کریئیٹرز، گرافک ڈیزائنرز، ایڈیٹرز، کریئیٹو ڈائریکٹرز، اداکار، اداکارائیں، ماڈلز، ٹیکنیشنز اور کیمرا مین کے پیشوں کا ذکر کیا، جن کے روزگار پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔

تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو دو بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے:

روزگار کا خطرہ: مشینی ذہانت کئی ایسے کام انجام دینے میں قابل ہو گئی ہے جو پہلے صرف انسانی تخلیقیت پر منحصر تھے۔ مثال کے طور پر، گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، اور کانٹینٹ کرییشن کے کئی مراحل اب خودکار طریقے سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔

پیشہ ورانہ اپ اسکیلنگ کی ضرورت: اے آئی کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر تخلیقی پیشہ ور افراد کو اپنی مہارتوں کو اپ ڈیٹ اور اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ وہ مشینوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کر سکیں اور اپنا روزگار برقرار رکھ سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس معاملے کو پالیسی سطح پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تخلیقی صنعت کو مضبوط بنانے اور انسانی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی آرا اور تجاویز کی روشنی میں اقدامات کرے گی۔ اسی سلسلے میں عوام اور پیشہ ور افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی تجاویز [email protected] پر ارسال کریں تاکہ مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔

یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت تخلیقی شعبے کے مستقبل اور روزگار کے مواقع کے تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اشتہارات، میڈیا اور دیگر تخلیقی شعبوں میں انسانی افرادی قوت کی ضرورت بہت حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر عمل کیا گیا اور پیشہ ور افراد کی اپ اسکیلنگ پر توجہ دی گئی، تو تخلیقی صنعت نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ نئی صلاحیتوں اور اختراعات کے لیے بھی مواقع فراہم کرے گی۔

ماہرین کی رائے: تخلیقی صنعت میں اے آئی کے اثرات

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی نے دنیا بھر کی تخلیقی صنعتوں کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ اب واضح طور پر سامنے آ رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں اور صنعت کی پائیداری تک جا پہنچتے ہیں۔

ڈاکٹر شمائلہ خان، ماہر میڈیا اور کمیونیکیشن:
ڈاکٹر شمائلہ کے مطابق، "مصنوعی ذہانت تخلیقی عمل کو تیز اور سستا بنا سکتی ہے، لیکن یہ انسانی تخلیقیت کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اگر ہم پیشہ ور افراد کی اپ اسکیلنگ اور تربیت پر توجہ نہ دیں، تو مستقبل میں کئی تخلیقی پیشے مکمل طور پر متروک ہو سکتے ہیں۔”

علی رضا، سینئر گرافک ڈیزائنر اور انسٹیٹیوٹ آف کریئیٹو آرٹس کے ماہر:
علی رضا کا کہنا ہے، "اے آئی ٹولز جیسے کہ خودکار گرافک ڈیزائن اور ویڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر نے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھا دیا ہے۔ اس کے مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن نوجوان تخلیق کاروں کو اپنی مہارتیں اپ ڈیٹ کر کے مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔”

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عائشہ پرویز:
ڈاکٹر عائشہ پرویز کا کہنا ہے، "تخلیقی صنعت نہ صرف روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے اگر انسانی افرادی قوت متاثر ہوئی، تو اس کا اثر نہ صرف روزگار بلکہ ملکی پیداوار اور اقتصادی نمو پر بھی پڑ سکتا ہے۔”

مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ماہر محمد فیصل:
محمد فیصل کے مطابق، "اے آئی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن ہم اس کے استعمال کو متوازن بنا سکتے ہیں۔ انسانی تخلیقیت اور اے آئی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے واضح پالیسیز اور تربیتی پروگرامز ضروری ہیں۔ یہ تخلیقی صنعت کو مستقبل کے لیے محفوظ بنانے کا واحد راستہ ہے۔”

متعلقہ خبریں

مقبول ترین