روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی رہنماؤں کے خلاف اپنی شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی قیادت روس کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے، مگر ان کے تمام منصوبے ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔
روسی عسکری قیادت کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے سخت لہجے میں کہا کہ "یورپی خنزیروں کو یہ توقع تھی کہ روس اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوابلکہ روس پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔”
پیوٹن نے الزام عائد کیا کہ یورپ ماضی کی تاریخ اور دشمنیوں کا بدلہ لینے کے لیے روس کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق روس نے ہر دباؤ اور چیلنج کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کیا اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔
اپنے خطاب میں روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر مخالف فریق اور اس کے بین الاقوامی حمایتی امریکی امن منصوبے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، تو روس اپنی "تاریخی سرزمین” کی آزادی کے لیے طاقت کے استعمال سے ہچکچائے گا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، مگر قومی سلامتی اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تعلقات اور یورپ–روس امور کے ماہرین نے ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ بیان کو شدید سفارتی تناؤ کی علامت قرار دیا ہے۔
ریسیہ اسٹڈی سینٹر کے سینئر محقق ڈاکٹر میخائل لوگینوف کے مطابق پیوٹن کا یورپی رہنماؤں کو ’’خنزیر‘‘ کہنا ایک غیر معمولی سخت ردعمل ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روس اس وقت شدید جیو پولیٹیکل دباؤ میں ہے۔
ان کے مطابق“پیوٹن کے یہ بیانات صرف سخت زبان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہیں۔ وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ روس کسی بھی بیرونی دباؤ کو کمزوری سمجھنے نہیں دے گا۔”
یورپی پالیسی امور کی ماہر کارولینا ویسٹروف کا کہنا ہے کہ پیوٹن کا لہجہ یورپی یونین کے ساتھ پہلے سے موجود تنازع کو مزید بھڑکائے گا۔
ان کا کہنا ہے:“اس قسم کے الفاظ کسی بھی ڈپلومیسی میں ناقابل قبول تصور ہوتے ہیں۔ یہ یورپی قیادت کو مزید سخت پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتے ہیں، جس کے اثرات یورپ اور روس کے تعلقات پر طویل عرصے تک رہیں گے۔”
عالمی سیکیورٹی کے پاکستانی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن رضا نے بھی اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روس کے سخت الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یوکرین تنازع اور مغربی پابندیوں نے ماسکو کو سخت دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں“پیوٹن کی تقریر اندرونی طاقت کے اظہار کے لیے بھی تھی۔ وہ اپنے عوام اور فوج کو یہ اعتماد دلانا چاہتے ہیں کہ روس نہ تو عالمی تنہائی سے گھبراتا ہے نہ ہی اپنی عسکری حکمتِ عملی تبدیل کرے گا۔”
ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یورپی رہنماؤں کے لیے سخت زبان کا استعمال محض ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کا نتیجہ ہے۔ یوکرین جنگ، نیٹو کی توسیع، مغربی اقتصادی پابندیوں اور یورپ کی مسلسل سفارتی محاصرے کی کوششوں نے ماسکو کو ایک دفاعی مگر جارحانہ بیانیہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
پیوٹن کا تازہ خطاب روس کے اندرونی محاذ پر طاقت کا اظہار بھی تھا۔ جیسے جیسے جنگ طویل ہو رہی ہے اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے، روسی قیادت اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ مغرب کے سامنے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔ ان کا یورپ کو ’’خنزیر‘‘ کہنا، ایک ایسا سفارتی حملہ ہے جو تعلقات میں موجود دراڑوں کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
اس بیان کا ایک اہم پہلو ’’تاریخی سرزمین‘‘ کا حوالہ ہے، جو یوکرین، مشرقی یورپ اور سابق سوویت علاقے کے حوالے سے روس کے وسیع جغرافیائی عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔ پیوٹن واضح کر چکے ہیں کہ اگر سفارتی مذاکرات ناکام رہے تو روس طاقت کا استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری طرف یورپ پہلے ہی روس کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پیوٹن کے یہ بیانات یورپی یونین کو دفاعی اخراجات بڑھانے، نیٹو کے ساتھ انضمام مضبوط کرنے اور ماسکو کے خلاف مزید سخت پابندیاں لگانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی منظرنامے میں یہ صورتحال ایک نئے سفارتی بحران کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جو روس اور یورپ کے تعلقات کو آنے والے برسوں تک بری طرح متاثر کرے گی۔ اگر یہ بیانیہ اسی شدت سے برقرار رہا تو خطہ ایک طویل سرد جنگ نما محاذ آرائی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر پیوٹن کا یہ خطاب روسی جارحانہ ڈپلومیسی کا نیا باب ہے، جس کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سیکیورٹی نظام پر بھی گہرے ہوسکتے ہیں۔





















