پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اس وقت ایک نیا تنازع نمایاں ہے جو اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اداکار و ہدایتکار یاسر نواز اپنی اہلیہ ندا یاسر کے حق میں سامنے آئے۔
ندا یاسر حالیہ دنوں میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے متعلق اپنے ایک بیان کے باعث تنقید کی زد میں تھیں، جسے عوام نے نامناسب اور غیر حساس قرار دیا۔ شدید ردِعمل کے بعد ندا یاسر نے معذرت بھی کر لی، مگر اس معاملے پر بحث رکنے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔
اداکارہ فضا علی ان شخصیات میں شامل تھیں جنہوں نے ندا یاسر کے بیان پر کھل کر اختلاف کیا۔ فضا علی کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز نہایت محنتی افراد ہوتے ہیں، اور اگر انہیں تھوڑی سی ٹِپ دے بھی دی جائے تو اس سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں پر پیسے ہڑپ کرنے جیسے الزامات لگا کر ان کی محنت کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔
فضا علی کی تنقید کے جواب میں یاسر نواز نے ندا یاسر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فضا علی بلا وجہ ان کی اہلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
تاہم فضا علی نے ایک بار پھر ردِعمل دیتے ہوئے یاسر نواز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ
“ایک حقیقی مرد کبھی کسی عورت پر حملہ نہیں کرتا۔ یہ معاملہ دو خواتین کا تھا، اس میں ایک مرد کا کود پڑنا مناسب نہیں۔ عورتوں کی باتوں میں جو بولے، وہ مرد نہیں ہوتا۔”
فضا علی کے مطابق وہ نہ تو فارغ بیٹھتی ہیں اور نہ ہی غیر ضروری تنازعات میں دلچسپی رکھتی ہیں بلکہ وہ اپنے کام اور حقیقی سماجی مسائل پر توجہ دینے کو ترجیح دیتی ہیں۔
اس پورے معاملے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ صارفین فضا علی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ کئی لوگ یاسر نواز کو اپنی اہلیہ کا ساتھ دینے پر سراہ رہے ہیں۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع غیر ضروری طور پر طول پکڑ رہا ہے اور اب اسے ختم ہو جانا چاہیے۔
ماہرین کی رائے
سوشل میڈیا اور شوبز تنازعات کے ماہرین اس معاملے کو پاکستان کی آن لائن کلچر کی ایک نمایاں مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں چھوٹے بیانات بھی بڑے تنازعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
میڈیا اینالسٹ پروفیسر حنا شفیق کے مطابق فضا علی اور یاسر نواز کے درمیان جاری لفظی جنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے فوری تنازع میں بدلنے کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے“یہ دونوں اداکار اپنے اپنے مؤقف میں جذباتی ہیں، مگر ایسے بیانات سے لوگ اصل مسئلے سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ شوبز شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتیں، کیونکہ ان کے بیانات کا اثر ہزاروں لوگوں پر ہوتا ہے۔”
اسی طرح شوبز اور عوامی رویوں کی ماہر ڈاکٹر رابعہ حسن کہتی ہیں کہ اس تنازع میں صنفی حساسیت کا عنصر بھی واضح ہے۔
انہوں نے کہا“فضا علی کا مردوں کے کردار پر سوال اٹھانا اور یاسر نواز کا بیوی کا دفاع کرنادونوں ردِعمل ایک جذباتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی بحث کو ’مرد بننے‘ یا ’عورتوں کی باتوں‘ جیسی اصطلاحات تک لے جانا مناسب نہیں، کیونکہ یہ سماجی رویوں کو مزید تقسیم کرتا ہے۔”
سوشل میڈیا مبصر علی زیدی کا کہنا ہے کہ یہ تنازع زیادہ دیر نہیں چل سکتا کیونکہ عوام کی بڑی تعداد اسے غیر ضروری کہہ رہی ہے۔
ان کے مطابق“پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اب ایسے تنازعات سے جلد تُکتا محسوس ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ زیادہ تر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ بحث اب ختم ہونی چاہیے۔”
فضا علی اور یاسر نواز کے درمیان ابھرنے والا یہ تنازع پاکستان کے شوبز کلچر میں ایک عام مگر حساس رجحان کو سامنے لاتا ہے۔ عوامی سطح پر مشہور شخصیات کے درمیان اختلافات اکثر غیر ضروری شدت اختیار کر جاتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا کا بغیر فلٹر فوری ردِعمل ہے۔
یہ معاملہ دراصل ایک چھوٹے بیان سے شروع ہوافوڈ ڈیلیوری رائیڈرز پر ندا یاسر کی متنازع رائے۔ اگرچہ انہوں نے معذرت کر لی، مگر شوبز حلقوں میں یہ بحث رکنے کے بجائے مزید بڑھتی گئی۔ یہاں فضا علی کا مؤقف طبقاتی حساسیت اور محنت کش طبقے کے احترام پر مبنی تھا، جسے کئی لوگ درست سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف یاسر نواز کا ردِعمل اپنے خاندان کا دفاع تھا، جو ایک عام انسانی رویہ ہے، لیکن اس نے تنازع کو مزید جذباتی بنا دیا۔ فضا علی کے تازہ بیان میں ’’عورتوں کی باتوں میں جو بولے، وہ مرد نہیں ہوتا‘‘ جیسے الفاظ نے معاملے کو صنفی بحث کی شکل بھی دے دی، جو پہلے موجود نہیں تھی۔
یہ تنازع اس اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ شوبز شخصیات کا ہر بیان عوام اور میڈیا کی نظروں میں ہوتا ہے۔ ایسے میں الفاظ کا محتاط استعمال نہایت ضروری ہے، ورنہ چھوٹی بات بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا ردِعمل بتا رہا ہے کہ عوام اس بحث سے اُکتا چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ مزید نہ کھینچا جائے۔ موجودہ صورتحال میں یہی مؤثر راستہ ہے کہ دونوں شخصیات ممکنہ غلط فہمیوں کو ختم کریں اور اصل موضوع—محنت کش طبقے کے مسائل—پر گفتگو کو آگے بڑھائیں۔





















