’جادوئی مشروم‘ میں موجود مرکب کس دماغی بیماری کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟

حالیہ برسوں میں میجک مشروم میں پائے جانے والے مرکب پر سائنسی تحقیق میں نمایاں اضافہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میجک مشروم میں موجود ایک قدرتی مرکب دماغ کی اُس منفی سرگرمی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جو انسان کو منفی سوچ کے دائرے سے باہر نکلنے نہیں دیتی، اور یوں یہ ڈپریشن کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈپریشن ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد مبتلا ہیں۔ اس حالت میں متاثرہ شخص کو ہفتوں بلکہ مہینوں تک تقریباً روزانہ دن کے زیادہ تر حصے میں خوشی کے فقدان، اداسی یا معمول کی سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے لیے عموماً مریضوں کو ٹاک تھراپی اور اینٹی ڈپریسنٹ ادویات تجویز کی جاتی ہیں، تاہم تحقیق بتاتی ہے کہ یہ طریقۂ علاج ہر فرد کے لیے یکساں طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق اب تک یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہو سکی تھی کہ کچھ افراد اس ذہنی کیفیت میں طویل عرصے تک کیوں پھنسے رہتے ہیں اور منفی سوچ کے چکر سے باہر کیوں نہیں نکل پاتے۔

حالیہ برسوں میں میجک مشرومز میں پائے جانے والے مرکب سِلوسیبن (Psilocybin) پر اس کی انسدادِ ڈپریشن خصوصیات کے باعث بڑے پیمانے پر تحقیق کی گئی ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اس مرکب کی صرف ایک خوراک بھی دماغ پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اب ایک نئی تحقیق میں یہ وضاحت سامنے آئی ہے کہ سِلوسیبن کس طرح ڈپریشن سے وابستہ منفی سوچ کے تسلسل کو توڑتا ہے۔

امریکی ادارے کارنیل یونیورسٹی کے سائنس دانوں کے مطابق سِلوسیبن دماغ کی اُس سرگرمی کو کمزور کر دیتا ہے جو مریض کو ’رومینیشن‘ نامی ذہنی عمل میں جکڑے رکھتی ہے۔ رومینیشن وہ کیفیت ہے جس میں انسان بار بار ایک ہی طرح کے منفی خیالات میں الجھا رہتا ہے۔

جرنل سیل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنف ایلکس کوان کا کہنا ہے کہ رومینیشن ڈپریشن کے بنیادی عوامل میں سے ایک ہے، کیونکہ اس میں مبتلا افراد منفی خیالات کے دائرے سے باہر نکلنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نئی دریافت سے مستقبل میں ڈپریشن کے علاج کے لیے زیادہ مؤثر اور مختلف نوعیت کے طریقۂ علاج سامنے آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ نفسیات اور دماغی سائنس کے محققین نے میجک مشروم میں موجود مرکب سِلوسیبن کو ڈپریشن کے علاج میں ایک ممکنہ انقلابی پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم اس کے محتاط اور طبی نگرانی میں استعمال پر زور دیا ہے۔

دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو ہاورڈ کے مطابق سِلوسیبن روایتی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔
ان کے بقول:
“عام ادویات روزانہ لینا پڑتی ہیں اور ان کے اثرات محدود ہوتے ہیں، جبکہ سِلوسیبن ایک یا دو خوراکوں کے بعد دماغی نیٹ ورکس میں گہری تبدیلی لا سکتا ہے۔”

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سارہ ولیمز کا کہنا ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد کا سب سے بڑا مسئلہ منفی سوچ میں پھنس جانا ہوتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی:
“رومینیشن وہ ذہنی کیفیت ہے جو مریض کو ماضی کے دکھ، ناکامیوں اور منفی خیالات میں قید رکھتی ہے۔ سِلوسیبن اسی ذہنی قید کو کمزور کرتا ہے، جس سے دماغ نئے انداز میں سوچنے لگتا ہے۔”

تاہم نیورو سائنس کے ماہر پروفیسر ڈیوڈ کلارک خبردار کرتے ہیں کہ سِلوسیبن کو کسی صورت خود علاج کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا:
“یہ ایک طاقتور مرکب ہے، جس کے اثرات ذہن پر گہرے ہوتے ہیں۔ اس کا استعمال صرف کنٹرولڈ کلینیکل ماحول میں ہی محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔”

ڈپریشن کو جدید دور کی خاموش وبا کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ بظاہر نظر نہیں آتا مگر انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ روایتی علاج جیسے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اور تھراپی اگرچہ لاکھوں لوگوں کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ان سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کر پاتی۔

سِلوسیبن پر ہونے والی تحقیق اس مسئلے کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ یہ مرکب دماغ کے اُن حصوں پر اثر انداز ہوتا ہے جو خود سے بات کرنے، ماضی کی یادوں اور جذباتی ردعمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سِلوسیبن دماغی نیٹ ورکس کو عارضی طور پر ’’ری سیٹ‘‘ کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے منفی سوچ کا تسلسل ٹوٹ سکتا ہے۔

رومینیشن کو ڈپریشن کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ جب تک یہ ذہنی عمل جاری رہتا ہے، مریض بہتر ہونے کے باوجود بار بار اسی منفی کیفیت میں واپس چلا جاتا ہے۔ سِلوسیبن اس چکر کو کمزور کر کے مریض کو ذہنی لچک فراہم کرتا ہے، جس سے تھراپی اور مثبت سوچ زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔

تاہم یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں سِلوسیبن اب بھی قانونی پابندیوں کے تحت ہے، اور اس کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کوئی ’’جادوئی علاج‘‘ نہیں بلکہ ایک ممکنہ طبی آپشن ہے جو مستقبل میں مخصوص مریضوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ تحقیق اس بات کی امید دلاتی ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈپریشن کے علاج کے لیے ایسے طریقے سامنے آ سکتے ہیں جو محض علامات دبانے کے بجائے ذہنی مسائل کی جڑ تک پہنچیں گے—لیکن اس سفر میں احتیاط، سائنسی تحقیق اور طبی نگرانی ناگزیر ہوگی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین