لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین) پنجاب بھر میں موسم کی شدت کے ساتھ بارش کا ایک نیا سسٹم داخل ہو گیا ہے، جس کے اثرات سے مختلف علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش اور بعض پہاڑی علاقوں میں برفباری کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں یہ سسٹم داخل ہو چکا ہے، تاہم اس کی کمزور شدت کے باعث آج زیادہ تر علاقوں میں بادل چھائے رہنے اور دھند و فوگ کی صورتحال متوقع ہے۔
ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ کل 20 اور 21 دسمبر لاہور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے باعث خشک موسم میں پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے نزلہ، زکام، کھانسی اور بخار میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے کے پہاڑی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری متوقع ہے۔ خاص طور پر راولپنڈی، مری، گلیات اور پوٹھوہار ریجن میں بارش اور برفباری کے امکانات ہیں۔ اسی طرح 20 اور 21 دسمبر کے دوران لاہور، شیخوپورہ، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد، حافظ آباد، گجرانوالہ، منڈی بہاالدین، گجرات، سیالکوٹ، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بارشوں کے نتیجے میں دھند اور اسموگ کی شدت میں کمی آئے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اسموگ سے بچاؤ کے لیے ماسک کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی نگرانی 24 گھنٹے جاری ہے، جبکہ مری میں سیاحوں کے لیے سہولت مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ ہنگامی صورتِ حال میں شہری 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں حالیہ دنوں میں داخل ہونے والے بارش اور برفباری کے سسٹم نے نہ صرف موسم کی شدت کو ظاہر کیا ہے بلکہ موسمی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات کی جانب بھی خبردار کیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق، گزشتہ دہائیوں کے دوران پنجاب میں بارشوں کے پیٹرن میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کبھی طویل عرصے تک خشک موسم رہتا تھا، مگر اب بارشیں اکثر غیر متوقع اوقات میں اور مختلف شدت کے ساتھ واقع ہوتی ہیں۔
یہ تبدیلیاں نہ صرف شہری زندگی بلکہ زرعی پیداوار، پانی کے وسائل اور صحت کے مسائل پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ حالیہ ہلکی بارشیں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری ایک طرف تو شہریوں کو خشک موسم کی بیماریوں سے راحت دیتی ہیں، مگر دوسری طرف موسمی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، گجرانوالہ اور دیگر شہروں میں ہلکی بارش کا امکان یہ ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب میں موسمیاتی نظام میں تغیرات بڑھتے جا رہے ہیں، جو طویل مدتی طور پر پانی کی دستیابی، فصلوں کی پیداوار اور ماحولیاتی توازن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی وسائل کا غیر متوازن استعمال ہے۔ پنجاب میں بڑھتی ہوئی دھند اور اسموگ کی شدت بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ حالیہ بارشوں سے دھند اور آلودگی میں کمی کا امکان پیدا ہوا ہے، لیکن یہ وقتی ہے اور مستقل حل کے لیے ماحول دوست اقدامات ضروری ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق، بارشوں کے اوقات میں تبدیلی کسانوں کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے، کیونکہ فصلوں کی پوٹاشیم اور پانی کی ضروریات پہلے سے طے شدہ روٹین کے مطابق نہیں رہتیں۔ اس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور غذائی تحفظ کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
شہری سطح پر بھی موسمی تبدیلیوں کے اثرات واضح ہیں۔ سردیوں میں غیر متوقع بارشیں اور برفباری شہری سہولیات، ٹریفک اور توانائی کے وسائل پر اثر ڈالتی ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے الرٹس اور ہنگامی مراکز قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ شہری اور سیاح موسمی خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔
پنجاب میں حالیہ بارشیں اور برفباری ایک طرف موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو واضح کرتی ہیں، تو دوسری طرف شہریوں اور زرعی شعبے کے لیے انتباہ کا پیغام بھی دیتی ہیں۔ مستقبل میں مستقل ریلیف اور تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست پالیسیز، پانی اور زرعی وسائل کی منصوبہ بندی، فضائی آلودگی میں کمی اور شہری آگاہی کے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔ ورنہ موسمی غیر یقینی صورتحال کے اثرات وقت کے ساتھ زیادہ شدید اور ناقابل کنٹرول ہو سکتے ہیں۔





















