کرکٹ کو اکثر غیر یقینی اتفاقات کا کھیل کہا جاتا ہے۔ یہ کھیل 1877 میں پہلے ٹیسٹ میچ سے شروع ہوا، 1971 میں ون ڈے کرکٹ آئی اور 2005 میں ٹی ٹوئنٹی نے دھوم مچا دی، مگر کرکٹ کی تاریخ صرف میچوں تک محدود نہیں—اس کھیل کے اصل رنگ ان کہانیوں میں چھپے ہوتے ہیں جو لیجنڈز کے بچپن سے جڑی ہوتی ہیں۔
پاکستان کے عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم بھی انہی خواب دیکھنے والے بچوں میں شامل تھے، جو کرکٹ کے دیوانے اور عمران خان سے بے حد متاثر تھے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ وسیم اکرم نے باقاعدہ طور پر کرکٹ کی ابتدا لدھیانہ جمخانہ سے کی، مگر ان کے کرکٹ کے سفر کی اصل بنیاد گلیوں، چھتوں اور ٹینس بال سے پڑی۔
کرکٹ کے بے پناہ شوق کی وجہ سے وسیم اکرم اکثر اپنے والد چوہدری اکرم کے ساتھ رہنے کے بجائے لاہور کے علاقے مزنگ میں اپنی نانی کے گھر رہا کرتے تھے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ایک عام سا لڑکا مستقبل کا “سوئنگ کا سلطان” بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔
نانی کے گھر کی چھت وسیم اکرم کی پہلی کرکٹ اکیڈمی تھی۔ وہ وہاں ٹینس بال سے گھنٹوں بولنگ اور بیٹنگ کیا کرتے تھے۔ مگر کھیل کے دوران اکثر ایسا ہوتا کہ گیند چھت سے نیچے جا گرتی اور بدقسمتی سے وہ سیدھی نیچے موجود دودھ والے کی دکان پر جا پہنچتی۔
یہی وہ لمحہ ہوتا جب دودھ والا غصے سے نانی کے دروازے پر آ کھڑا ہوتا۔ وہ شکایت کرتا کہ گیند لگنے سے دودھ خراب ہو گیا ہے اور نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرتا۔ نانی، جو وسیم اکرم سے بے حد محبت کرتی تھیں، خاموشی سے اسے پیسے دے دیتیں۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ دودھ والا نقصان کا معاوضہ لینے کے باوجود وہی دودھ آگے بیچ بھی دیتا تھااور اگلے دن کہانی پھر وہیں سے شروع ہو جاتی۔
وسیم اکرم آج بھی ہنستے ہوئے اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں اور مزنگ کے اُس میدان کو یاد کرتے ہیں جو ان کے گھر کے باہر واقع ایک کالج کا حصہ تھا، جہاں انہوں نے اپنی رفتار، سوئنگ اور خود اعتمادی کو نکھارا۔
یہ واقعات صرف ایک عظیم کرکٹر کے بچپن کی جھلک نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہیں کہ دنیا کے بڑے کھلاڑی اکثر چھوٹی چھتوں، ٹینس بال اور نانی کی دعاؤں سے جنم لیتے ہیں۔
یہی بچہ، جو کبھی دودھ والے کی شکایتوں کا سبب بنتا تھا، بعد میں دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خوف کی علامت بن گیااور ہمیشہ کے لیے سوئنگ کا سلطان کہلایا۔





















