نیویارک(خصوصی رپورٹ :رمیض حسین)دنیا میں جہاں ایک طرف کئی ممالک میں برتھ کنٹرول اور فیملی پلاننگ کے پروگرام زور وشور سے جاری ہیں، تو دوسری طرف کچھ علاقوں میں بچوں کی پیدائش میں غیر متوقع اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ، ورلڈ پاپولیشن پروسپیکٹس 2024 کے مطابق، سال 2025 میں دنیا کے سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش کے معاملے میں بھارت سرِفہرست ہے۔ اس سال بھارت میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بچے پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو مجموعی آبادی میں اضافے کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔
پاکستان میں 45 لاکھ ، عوامی جمہوریہ کانگو میں 30 لاکھ، بنگلہ دیش میں 16 لاکھ، نائجیریا میں 55 لاکھ، ایتھوپیا میں 31 لاکھ، انڈونیشیا میں 20 لاکھ اور مصر میں 15 لاکھ بچوں کی پیدائش کا تخمینہ لگایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایشیا اور افریقہ کے یہ ممالک اس سال سب سے زیادہ آبادی کے اضافے کے حامل ہیں، جہاں اموات کے مقابلے میں پیدائش کی شرح نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان ان ممالک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے امکانات اور انسانی وسائل کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
اسے بھی پڑھیں: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت کا نیا عالمی ریکارڈ
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی آبادی میں اضافہ ہمیشہ سے ایک اہم عالمی موضوع رہا ہے۔ سال 2025 کے لیے جاری اقوامِ متحدہ کی ورلڈ پاپولیشن پروسپیکٹس 2024 رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں پیدائش کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی ہے، اور یہ رجحان کئی سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش والے ملکوں میں بھارت سرِفہرست ہے، جہاں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی آبادی نہ صرف ملک کے اقتصادی امکانات بلکہ سماجی خدمات، تعلیم اور صحت کے نظام پر بھی اہم اثر ڈالتی ہے۔ نوجوان آبادی کی یہ بڑی تعداد ملک کے لیے ایک قیمتی انسانی سرمایہ ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر پر دباؤ بھی بڑھاتا ہے۔

پاکستان میں 45 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو کہ ملک کی مجموعی آبادی میں تیزی سے اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں یہ رجحان تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مزید منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ نوجوان آبادی کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے لیے حکومت اور سماجی اداروں کو ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ یہ آبادی ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکے۔
افریقہ کے ممالک، جیسے کہ نائجیریا (55 لاکھ)، ایتھوپیا (31 لاکھ)، اور عوامی جمہوریہ کانگو (30 لاکھ) میں بھی پیدائش کی شرح بہت زیادہ رہی ہے۔ ان ممالک میں آبادی کا تیزی سے بڑھنا اقتصادی ترقی کے مواقع کے ساتھ ساتھ سماجی چیلنجز بھی پیدا کر رہا ہے۔ بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیم اور صحت کے نظام میں دباؤ، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع، یہ سب مستقبل میں بڑے مسائل پیدا کر سکتے ہیں اگر ان پر بروقت توجہ نہ دی جائے۔
بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور مصر میں بھی سال 2025 میں بچوں کی پیدائش قابل ذکر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیا اور افریقہ کے یہ مخصوص علاقے دنیا کے آبادیاتی مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پیدائش کی شرح میں اضافہ صرف معاشرتی یا اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی اور انسانی وسائل کے انتظام کے لیے بھی چیلنج ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ بلند پیدائش کی شرح دنیا کے لیے دونوں طرح کے امکانات اور چیلنجز لے کر آتی ہے۔ ایک طرف یہ نئی نسل، ملکوں کے لیے نوجوان اور متحرک انسانی وسائل فراہم کرتی ہے، جو اقتصادی ترقی اور سائنسی و تکنیکی پیش رفت میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، یہ رجحان بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی پر دباؤ بھی بڑھاتا ہے۔ اگر اس پر منصوبہ بندی کے ساتھ قابو نہ پایا گیا تو یہ سماجی اور ماحولیاتی مسائل کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی میں حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیدائش کی بڑھتی ہوئی شرح کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے لیے تعلیمی، صحت اور معاشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ نوجوان نسل کی تربیت اور ان کی استعداد کاری میں سرمایہ کاری کرنا، ان ممالک کے لیے طویل مدتی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔





















