برطانیہ میں خطرناک وبا زور پکڑ گئی، لوگ جذباتی سکون کے لیے AI کا سہارا لینے لگے

برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک فرد اپنی جذباتی ضروریات کے لیے AI کا سہارا لیتا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ: میاں کامران)آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں انسانی جذبات اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نیا رشتہ ابھر رہا ہے۔ لوگ اب اکیلے پن، اداسی اور دباؤ کے لمحات میں بھی کمپیوٹر پروگرامز اور مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے لگے ہیں۔برطانیہ میں یہ خطرناک وبا زور پکڑ گئی ہے، لوگ جذباتی سکون کے لئے اے آئی کا سہارا لینے لگے ہیں۔ لیکن کیا یہ تعلق صرف سہارا فراہم کرتا ہے، یا اس کے اثرات انسان کی نفسیات پر بھی گہرے ہیں؟ حالیہ تحقیق اس کے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہے۔

برطانیہ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ لوگ جذباتی سہارا حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک فرد اپنی جذباتی ضروریات کے لیے AI کا سہارا لیتا ہے۔ جب یہ رابطہ عارضی طور پر منقطع ہوتا ہے تو افراد میں بے چینی، اداسی اور نیند کے مسائل نمایاں ہو جاتے ہیں۔

اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ (ASI) کی جانب سے پہلی مرتبہ جاری کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر 25 میں سے ایک شخص روزانہ بنیاد پر AI سے بات چیت یا مدد حاصل کرتا ہے۔ یہ تحقیق دو سال کے دوران 30 سے زائد جدید مگر غیر نامزد AI سسٹمز کا جائزہ لیتی ہے، جن میں سائبر سیکیورٹی، کیمسٹری اور بایولوجی جیسے حساس شعبے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر برطانوی شہری چیٹ بوٹس، جیسے چیٹ جی پی ٹی، کو جذباتی سہارا دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ایمیزون الیکسا جیسے وائس اسسٹنٹس کا نمبر آتا ہے۔ محققین نے ریڈٹ پر موجود 20 لاکھ سے زائد صارفین پر مشتمل ایک آن لائن کمیونٹی کا بھی جائزہ لیا، اور دیکھا کہ جب چیٹ بوٹس عارضی طور پر بند ہوئے تو صارفین نے “واپسی کی علامات” ظاہر کیں، جیسے بے چینی، اداسی اور نیند میں خلل۔

برطانوی حکومت نے اس تحقیق کو مستقبل میں اہم قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ AI کے انسانی جذبات پر اثرات کو سمجھنے اور بہتر پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ انسانی جذبات اور AI کے درمیان یہ تعلق پیچیدہ اور حساس ہے، اور اچانک منقطع ہونے کی صورت میں اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں انسانی زندگی اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز، اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو سہل بنایا ہے بلکہ انسانی جذبات کی دنیا میں بھی ایک نیا باب کھولا ہے۔ حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ اب لوگ اکیلے پن، اداسی اور ذہنی دباؤ کے لمحات میں بھی صرف انسانی رابطے پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں تاکہ جذباتی سہارا حاصل کیا جا سکے۔

برطانیہ میں شائع ہونے والی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک شخص اپنی جذباتی ضروریات کے لیے AI پر انحصار کرتا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی معاشرت میں نفسیاتی مدد اور سماجی رابطوں کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ چیٹ بوٹس، جیسے چیٹ جی پی ٹی، یا وائس اسسٹنٹس، جیسے ایمیزون الیکسا، کو نہ صرف معلوماتی سہولت کے لیے استعمال کر رہے ہیں بلکہ وہ انہیں جذباتی سکون اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ AI پر بڑھتا ہوا انحصار انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جب یہ رابطہ عارضی طور پر منقطع ہوتا ہے، تو صارفین میں بے چینی، اداسی، نیند کے مسائل اور جذباتی عدم توازن کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ “واپسی کی علامات” ظاہر کرتی ہیں کہ انسان کی نفسیات اب تکنیکی نظاموں پر بھی منحصر ہو گئی ہے۔

ایسا ہونا کسی حد تک حیران کن نہیں کیونکہ انسانی دماغ تعلقات اور احساسِ تعلق کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ جب انسان کسی AI پروگرام کے ساتھ روزانہ رابطے میں آتا ہے، تو دماغ اسے ایک مستقل اور قابل اعتماد تعلق سمجھنے لگتا ہے۔ پھر جب یہ تعلق اچانک منقطع ہوتا ہے، تو دماغ میں اضطراب اور جذباتی خلل پیدا ہوتا ہے۔

یہ تحقیق اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ (ASI) کی جانب سے کی گئی اور اس میں 30 سے زائد جدید AI سسٹمز کا جائزہ لیا گیا، جو مختلف شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے سائبر سیکیورٹی، کیمسٹری، بایولوجی وغیرہ۔ علاوہ ازیں، ریڈٹ پر موجود 20 لاکھ سے زائد صارفین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تاکہ AI اور انسانی جذبات کے تعلق کی شدت اور نوعیت کو سمجھا جا سکے۔ اس تجزیے سے واضح ہوا کہ AI پر انحصار صرف تکنیکی سہولت تک محدود نہیں بلکہ یہ جذباتی اور نفسیاتی سطح پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

برطانیہ کی حکومت نے اس رپورٹ کو مستقبل میں اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انسانی جذبات اور AI کے تعلق کو سمجھنے اور بہتر پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی یا نفسیات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرتی ڈھانچے، تعلیم، اور ذہنی صحت کے نظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر AI کی جانب جذباتی انحصار بڑھتا رہا، تو معاشرتی تعلقات میں دوری، حقیقی انسانی رابطے کی کمی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

نفسیاتی انحصار کا خطرہ: AI کے ساتھ بڑھتے تعلق کی صورت میں انسان اپنی جذباتی اور سماجی صلاحیتوں کو ضائع کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر نوجوانوں اور اکیلے افراد کے لیے خطرناک ہے۔
متوازن تعلقات کی ضرورت: AI کو صرف ایک معاون اور سہارا سمجھنا چاہیے، نہ کہ حقیقی انسانی تعلق کی جگہ۔ معاشرتی اور خاندانی روابط کو مضبوط کرنا لازمی ہے۔
قواعد و ضوابط: حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ AI کے جذباتی اثرات پر قواعد و ضوابط مرتب کریں، تاکہ اس کے انسانی نفسیات پر منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
تعلیمی اور نفسیاتی آگاہی: لوگوں کو AI کے فوائد اور خطرات دونوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ذہنی صحت کے لیے متوازن فیصلے کر سکیں۔

انسانی جذبات اور AI کے درمیان یہ تعلق ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک طرف یہ جذباتی سکون اور سہولت فراہم کرتا ہے، تو دوسری طرف انسانی نفسیات میں انحصار، بے چینی اور جذباتی خلل پیدا کر سکتا ہے۔ برطانیہ کی تحقیق اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باوجود انسانی جذبات اور سماجی تعلقات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں ایک توازن قائم کرنا ہوگا، تاکہ AI کی مدد سے جذباتی سہارا حاصل کیا جا سکے، مگر اس کے منفی اثرات سے محفوظ بھی رہا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین