وزیراعظم کی ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت

غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ پر بات نہیں ہو سکتی، شہباز شریف

لاہور(حسین احمد)وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت سنجیدہ اور بامقصد ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے، تاہم غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ کے ذریعے بات چیت ممکن نہیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان دنوں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں تو حکومتِ پاکستان بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر مذاکرات صرف آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر ہی ہو سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتی ہے، لیکن کسی قسم کے غیر قانونی مطالبات یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق صرف جائز اور قابلِ قبول معاملات پر ہی ڈائیلاگ آگے بڑھ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون ناگزیر ہے، اور قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفادات پر ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماہرین کی رائے

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان حکومت کی جانب سے مفاہمت کا پیغام ہے، تاہم اس کے ساتھ ایک واضح ریڈ لائن بھی کھینچ دی گئی ہے۔

سینئر سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے مطابق:“یہ دعوت دراصل سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش ہے، مگر حکومت واضح کر رہی ہے کہ دباؤ یا سڑکوں کی سیاست کے تحت مذاکرات نہیں ہوں گے۔”

سیاسی امور کی ماہر ڈاکٹر ثریا عزیز کا کہنا ہے“وزیراعظم نے قانونی اور آئینی فریم ورک پر زور دے کر اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا مقصد نظام کو چلانا ہے، نہ کہ اداروں کو کمزور کرنا۔”

سابق سفارت کار اعزاز چوہدری کے مطابق“اگر پی ٹی آئی سنجیدگی دکھاتی ہے تو یہ ڈائیلاگ سیاسی ڈیڈلاک توڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ورنہ یہ بیان محض ایک اخلاقی برتری تک محدود رہے گا۔”

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور انتخابی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ اس بیان میں ایک جانب مفاہمت کا پیغام ہے تو دوسری جانب حکومت نے اپنی شرائط بھی واضح کر دی ہیں۔

“غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ” کی اصطلاح دراصل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بنیادی اختلاف کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف پارلیمانی اور آئینی دائرے میں ہوں، جبکہ پی ٹی آئی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور فوری سیاسی فیصلوں سے جڑے مطالبات سامنے لاتی رہی ہے۔

یہ بیان حکومت کو ایک ذمہ دار فریق کے طور پر پیش کرتا ہے، جو بات چیت سے گریز نہیں کر رہی، جبکہ کسی بھی ممکنہ ناکامی کی ذمہ داری مخالف جماعت پر ڈالنے کی حکمتِ عملی بھی نظر آتی ہے۔

اگر مذاکرات واقعی شروع ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ سیاسی استحکام، قانون سازی اور معاشی اصلاحات کی رفتار میں بہتری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ تاہم اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہے تو یہ دعوت محض ایک سیاسی بیان سے آگے نہیں بڑھے گی۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کی سیاست میں ایک ممکنہ موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں یا تو مفاہمت کا راستہ نکلے گا یا محاذ آرائی مزید گہری ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین