سعودی عرب میں برفباری کے بعد صحراؤں میں اونٹوں کے نایاب مناظر وائرل

برف سے ڈھکے پہاڑ، سفید صحرا اور سرد موسم،سیاحوں کی بڑی تعداد نے شمالی علاقوں کا رخ کر لیا

سعودی عرب کے شمالی علاقوں میں غیر معمولی برفباری کے بعد قدرت نے ایسا نایاب منظر پیش کر دیا ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ تبوک اور تروجینا کے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ چکے ہیں، جس کے بعد یہ خطے ایک دلکش سرمائی تفریح گاہ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

اس غیر معمولی منظر کو دیکھنے کے لیے مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی بڑی تعداد میں پہاڑی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ لوگ برفباری کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے، تصاویر بناتے اور یادگار لمحات سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تروجینا ہائی لینڈز میں ہونے والی برفباری کے باعث پہاڑوں اور چٹانوں پر برف کی موٹی تہہ جم گئی ہے، جس نے شمالی سعودی عرب کے عمومی صحرائی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

تبوک کے پہاڑی علاقوں میں بھی برفباری دیکھنے میں آئی، جہاں لوگ پکنک مناتے، برف میں کھیلتے اور اس نایاب موسم سے بھرپور لطف اٹھاتے نظر آئے۔ سرد موسم اور برف سے ڈھکے بلند مقامات نے سعودی عرب کے روایتی گرم اور خشک ماحول کے برعکس ایک منفرد اور دلکش منظر پیش کیا۔

سوشل میڈیا پر خاص طور پر ایک ویڈیو نے خوب توجہ حاصل کی، جس میں برف سے ڈھکے صحرا میں کھڑے اونٹ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس منظر کو سعودی عرب کے نایاب ترین قدرتی مناظر میں شمار کیا جا رہا ہے، کیونکہ عام طور پر اونٹوں کو گرم صحرائی ماحول سے جوڑا جاتا ہے، نہ کہ برفباری سے۔

تروجینا کے پہاڑ، جو نیوم منصوبے کا حصہ ہیں، سطح سمندر سے تقریباً 2 ہزار 600 میٹر بلند ہیں اور خلیجِ عقبہ سے لگ بھگ 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی جغرافیائی بلندی اس علاقے کو سردیوں میں برفباری اور سرمائی سیاحت کے لیے موزوں بناتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں اور دھند کا امکان ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔

یہ غیر معمولی برفباری نہ صرف قدرتی حسن کا نادر مظاہرہ ہے بلکہ سعودی عرب میں ابھرتی ہوئی سرمائی سیاحت کی ایک خوبصورت جھلک بھی پیش کرتی ہے۔

ماہرین کی رائے

موسمیات کے ماہرین کے مطابق شمالی سعودی عرب میں برفباری خطے کی جغرافیائی بلندی اور سرد ہواؤں کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔
ماہرِ موسمیات ڈاکٹر فہد القحطانی کے مطابق“تروجینا اور تبوک جیسے بلند علاقوں میں برفباری اب نایاب ضرور ہے، مگر موسمی پیٹرنز میں تبدیلی کے باعث ایسے واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔”

سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مناظر سعودی عرب میں ونٹر ٹورازم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے، خاص طور پر نیوم منصوبے کے تناظر میں۔

سعودی عرب میں برفباری اور صحراؤں میں اونٹوں کے مناظر صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی اور سیاحتی رجحانات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ روایتی طور پر گرم اور خشک سمجھے جانے والے علاقوں میں برفباری کا منظر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔

یہ واقعہ ایک جانب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت متنوع سیاحت کے فروغ کی عملی مثال بھی بن رہا ہے۔ تروجینا جیسے منصوبے مستقبل میں سعودی عرب کو ایک منفرد سرمائی سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرا سکتے ہیں۔

البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیاحوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات، موسمی انتباہات اور انفراسٹرکچر کی تیاری نہایت ضروری ہے تاکہ قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین