برطانیہ: ہوا سے منہ میں جانے والا پتہ تھوکنا شہری کو مہنگا پڑ گیا

اپیل کے بعد 250 پاؤنڈ کا جرمانہ کم ہو کر 150 پاؤنڈ رہ گیا

برطانیہ میں ایک غیر معمولی واقعے نے عوامی توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ہوا کے جھونکے کے باعث منہ میں جانے والا ایک پتہ تھوکنے پر ایک بزرگ شہری کو بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

برطانوی کاؤنٹی لنکن شائر سے تعلق رکھنے والے 86 سالہ رائے مارش پر یہ جرمانہ رواں سال کے آغاز میں ساحلی شہر اسکیگنس میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد عائد کیا گیا۔ بزرگ شہری کا مؤقف تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی گندگی پھیلانے کے ذمہ دار نہیں تھے بلکہ یہ صورتحال کچرا اٹھانے والے ادارے کی غفلت کے باعث پیدا ہوئی۔

یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب رائے مارش کی بیٹی جین فٹزپیٹرک نے واقعے کی تفصیلات فیس بک پر شیئر کیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

جین کے مطابق ان کے والد جھیل کے کنارے معمول کے مطابق چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہوا کے ساتھ ایک پتہ ان کے منہ میں چلا گیا اور گلے میں پھنس گیا۔ شدید دمہ اور قلبی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث انہوں نے کھانستے ہوئے وہ پتہ باہر نکالا اور زمین پر تھوک دیا—صرف پتہ، کوئی تھوک نہیں۔

ان کے بقول اسی لمحے مقامی حکام وہاں پہنچ گئے، سخت لہجے میں قانون شکنی کا الزام عائد کیا اور فوری طور پر جرمانہ عائد کر دیا۔ جین کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے پتہ دکھا کر وضاحت کرنے کی کوشش کی، مگر اس کے باوجود کارروائی کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز بعد ایک اور واقعے میں ان کے والد نے ناک صاف کرنے کے لیے جیب سے رومال نکالا تو اسی اثنا میں ایک افسر نے دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے ایک اور جرمانہ عائد کر دیا۔

بعد ازاں اپیل کے بعد رائے مارش پر عائد 250 پاؤنڈ کا جرمانہ کم کر کے 150 پاؤنڈ کر دیا گیا، جسے انہوں نے ادا کر دیا۔

اس معاملے پر ایسٹ لنزے ڈسٹرکٹ کونسل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انفورسمنٹ ٹیمیں صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہیں جو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں۔

ماہرین کی رائے

قانونی اور سماجی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ قانون کے اطلاق اور انسانی ہمدردی کے درمیان توازن پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

قانونی امور کے ماہر ڈیوڈ ہیرس کا کہنا ہے“قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، مگر انفورسمنٹ میں سیاق و سباق کو نظر انداز کرنا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔”

سماجی امور کی ماہر ڈاکٹر ایما کولنز کے مطابق“بزرگ اور بیمار افراد کے ساتھ سخت رویہ قانون کے بجائے نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔”

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بعض اوقات قوانین پر اندھا دھند عمل درآمد عوامی ردعمل اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے قوانین شہری نظم و ضبط کے لیے ضروری ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد میں انسانی حالات، عمر اور صحت جیسے عوامل کو نظر انداز کرنا تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

رائے مارش کا معاملہ صرف ایک جرمانے کا نہیں بلکہ اس سوال کا ہے کہ آیا قانون کا مقصد سزا دینا ہے یا عوامی بھلائی کو فروغ دینا؟ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ عوام ایسے معاملات میں نرمی اور سمجھداری کے خواہاں ہیں۔

یہ واقعہ برطانوی بلدیاتی نظام کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ انفورسمنٹ پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے اور عوامی ہمدردی کو قانون کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین