حکومت نے 5 ماہ میں کتنے ارب ڈالر بیرونی قرضہ لیا؟ تفصیلات جاری

نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 96 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ملک میں آئی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)حکومت کی جانب سے جاری مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں حاصل کیے گئے بیرونی قرضوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی سے نومبر تک پاکستان نے 3 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض حاصل کیا۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 13.64 فیصد زیادہ ہے، جس کا حجم تقریباً 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بنتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اس مدت میں 1 ارب 25 کروڑ ڈالر فراہم کیے، جبکہ مختلف دوست ممالک کی جانب سے 80 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی مالی مدد ملی۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 96 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ملک میں آئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں پاکستان کو مجموعی طور پر 2 ارب 66 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ ملا تھا۔ رواں سال عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، اسلامی ترقیاتی بینک اور سعودی عرب پاکستان کو سب سے زیادہ قرض فراہم کرنے والے اداروں اور ممالک میں شامل رہے۔

اسے بھی پڑھیں: ملکی معیشت میں ایک اور سنگِ میل، زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

پانچ ماہ کے دوران حاصل کیے گئے بیرونی قرضے کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 858 ارب 27 کروڑ روپے بنتی ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں ملنے والے 741 ارب روپے کے مقابلے میں 117 ارب روپے زیادہ ہے۔

ذرائع کے مطابق نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 531 ارب روپے سے زائد قرض حاصل کیا گیا، جس میں بجٹ سپورٹ کے لیے 273 ارب روپے سے زیادہ شامل ہیں۔ اسی عرصے میں اسلامی ترقیاتی بینک نے 109 ارب روپے کا قلیل مدتی قرض فراہم کیا۔

مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں سعودی عرب کی جانب سے 141 ارب 76 کروڑ روپے کی آئل فیسلٹی بھی حاصل کی گئی، جو 50 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 327 ارب روپے سے زائد قرض لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے نومبر کے دوران پاکستان کو 15 ارب 32 کروڑ روپے کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے بیرونی قرضہ ہمیشہ سے ایک حساس اور اہم معاشی موضوع رہا ہے، اور رواں مالی سال 2025-26 کے ابتدائی پانچ ماہ میں حاصل ہونے والے بیرونی قرضوں کے تازہ اعداد و شمار اس بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیتے ہیں۔ اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران پاکستان نے 3 ارب ڈالر سے زائد بیرونی مالی معاونت حاصل کی، جو بظاہر گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں موجود حقائق زیادہ گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں پاکستان کو 2 ارب 66 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ ملا تھا، جبکہ رواں سال یہ رقم 13.64 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اس اضافے کو صرف مالی کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اضافہ دراصل پاکستان کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات، بجٹ خسارے اور زرمبادلہ کے دباؤ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا کردار اس دوران خاصا نمایاں رہا۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک نے مجموعی طور پر 1.25 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے سہارے پر کھڑی ہے۔ ان اداروں کی مالی مدد اگرچہ وقتی ریلیف فراہم کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ سخت شرائط، اصلاحاتی مطالبات اور پالیسی دباؤ بھی جڑا ہوتا ہے، جو طویل مدت میں عوام پر اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔

دوست ممالک کی جانب سے ملنے والی 80 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت اور سعودی عرب کی آئل فیسلٹی، جو 50 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو فوری ادائیگیوں اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قلیل مدتی سہولیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی آئل فیسلٹی اگرچہ وقتی طور پر زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہے، لیکن یہ بھی بالآخر قرض ہی کی ایک شکل ہے جس کی واپسی مستقبل میں کرنا ہوگی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 531 ارب روپے سے زائد قرض لیا گیا، جس میں 273 ارب روپے سے زیادہ بجٹ سپورٹ کے لیے استعمال ہوئے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ملک کی آمدن اور اخراجات میں موجود خلا کو پورا کرنے کے لیے بیرونی قرض کا سہارا لیا جا رہا ہے، نہ کہ صرف ترقیاتی منصوبوں یا پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے۔ یہ رجحان کسی بھی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے لیا گیا قرض براہِ راست معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتا۔

اگرچہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 327 ارب روپے سے زائد قرض لیا گیا، جو ایک مثبت پہلو ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ منصوبے مستقبل میں اتنی معاشی سرگرمی پیدا کر پائیں گے کہ قرض کی واپسی بوجھ محسوس نہ ہو۔ پاکستان کی ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ کئی ترقیاتی منصوبے تاخیر، لاگت میں اضافے اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرض تو بڑھا مگر معیشت کو مطلوبہ فائدہ نہ مل سکا۔

پانچ ماہ کے دوران 15 ارب 32 کروڑ روپے کی گرانٹس کا حصول یقیناً ایک خوش آئند پہلو ہے، کیونکہ گرانٹس قرض نہیں ہوتیں اور ان کی واپسی نہیں کرنا پڑتی۔ تاہم یہ رقم مجموعی بیرونی مالی ضروریات کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت کا تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی قرض اور بیرونی امداد پر انحصار برقرار رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بیرونی قرض خود ایک مسئلہ نہیں، مسئلہ اس کا استعمال اور واپسی کی حکمت عملی ہے۔ اگر قرض پیداواری شعبوں، برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ ہو تو یہ معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی قرض بجٹ خسارہ، سبسڈیز اور جاری اخراجات پورے کرنے میں صرف ہوتا رہے تو یہ مستقبل کی نسلوں پر ایک بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین