ٹیلی کام ٹیرف پر تنازع: چین نے بھارت کو عالمی فورم پر گھسیٹ لیا

چینی حکومت کا بھارتی تجارتی پالیسیوں پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

چین نے بھارت کے خلاف عالمی تجارتی ادارے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں باضابطہ طور پر مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ بھارت کی بعض تجارتی پالیسیاں اور پابندیاں چینی مصنوعات کے لیے نقصان دہ ہیں اور یہ اقدامات عالمی تجارتی قوانین اور منصفانہ مسابقت کے اصولوں کے منافی ہیں۔

چینی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ضوابط، خاص طور پر ٹیلی کام ٹیرف پالیسی، چینی کمپنیوں کے لیے بھارتی مارکیٹ تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ پالیسیاں امتیازی نوعیت کی ہیں اور عالمی تجارتی فریم ورک کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

چین نے عالمی تجارتی فورم سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو اپنی متنازع پالیسیوں پر نظرِ ثانی اور انہیں عالمی قوانین کے مطابق ڈھالنے کا پابند کیا جائے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد منصفانہ تجارت کے اصولوں کا تحفظ اور عالمی مارکیٹ میں برابری کی بنیاد پر مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے بعد چین اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک اختلافات پہلے ہی موجود ہیں۔

یہ پیش رفت عالمی تجارتی حلقوں میں گہری دلچسپی کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف چین اور بھارت بلکہ خطے اور عالمی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی و عسکری تجزیہ

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق چین کا یہ اقدام صرف تجارتی تنازع تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے اسٹریٹجک اور جیوپولیٹیکل اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

چین اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی سرحدی کشیدگی، عسکری تعیناتیوں اور ٹیکنالوجی پابندیوں کے باعث تناؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ دائر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اب بھارت کے خلاف قانونی اور سفارتی محاذ پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

ٹیلی کام سیکٹر کو نشانہ بنانا خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ شعبہ نہ صرف معاشی بلکہ عسکری اور سیکیورٹی کے حوالے سے بھی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے چینی کمپنیوں پر پابندیاں دراصل قومی سلامتی کے خدشات کے تحت لگائی گئی تھیں، تاہم چین انہیں تجارتی امتیاز قرار دے رہا ہے۔

یہ تنازع اگر طول پکڑتا ہے تو خطے میں معاشی بلاکس، سپلائی چین کی تقسیم اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی تجارت کے ماہر ڈاکٹر احمد فرید کے مطابق“چین کا ڈبلیو ٹی او سے رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ بھارت کو یکطرفہ تجارتی اقدامات سے باز رکھنا چاہتا ہے، تاہم یہ کیس دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔”

سیکیورٹی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث محمود کا کہنا ہے“ٹیلی کام پالیسی پر تنازع دراصل ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کی جنگ ہے، جہاں تجارتی قوانین کو عسکری خدشات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔”

عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر ثانیہ قریشی کے مطابق“یہ مقدمہ ڈبلیو ٹی او کے کردار کا بھی امتحان ہوگا کہ آیا وہ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھ پاتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین