فوجی اہلکاروں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ،سخت پالیسی جاری

بھارتی فوج نے اس نئی پالیسی کا باضابطہ مقصد سیکیورٹی خدشات کو کم کرنا بتایا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)آج کے دور میں سوشل میڈیا ہر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن بھارت کی فوج نے اپنے اہلکاروں کے لیے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جو شاید بہت کم لوگ سوچ بھی سکتے تھے۔ اب فوجی نہ تو انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) یا کسی اور پلیٹ فارم پر تبصرہ کر سکیں گے، نہ مواد شیئر کر سکیں گے اور نہ ہی لائیک کر سکیں گے۔ یہ پابندی نہ صرف فوج میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ہے بلکہ اندرونی اختلافات، تنقید اور عسکری قیادت پر سوالات کو کنٹرول کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

بھارتی فوج نے اپنے اہلکاروں کے سوشل میڈیا استعمال پر نئی اور سخت پابندی نافذ کر دی ہے۔ اب فوجی انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر تبصرہ کرنے، مواد شیئر کرنے یا لائیک کرنے سے قاصر ہوں گے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب فوج میں سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش نے سر اٹھایا ہے۔

بی بی سی کے مطابق بھارتی فوج نے اس نئی پالیسی کا باضابطہ مقصد سیکیورٹی خدشات کو کم کرنا بتایا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے کئی دیگر عوامل بھی موجود ہیں۔

بھارت میں فوجی اہلکاروں اور سوشل میڈیا کے تعلقات کسی نئے معاملے کی طرح نہیں ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں سوشل میڈیا پر فوجی اہلکاروں اور سابق افسران کی جانب سے مودی حکومت اور عسکری قیادت پر بڑھتی ہوئی تنقید نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا، جس کے بعد فوج نے کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے فوج میں بڑھتی بے چینی، حکومتی پالیسیوں پر اختلافات اور عسکری قیادت کو نظریاتی طور پر ہندوتوا اثر میں لانے کے خدشات اہم وجہ ہیں۔ اسی دوران بھارتی آرمی چیف کی مذہبی سرگرمیوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

حالیہ دنوں میں ایک عیسائی فوجی اہلکار سیموئیل کمالیسن کے کورٹ مارشل کے کیس نے بھی سوشل میڈیا پر نمایاں بحث کو جنم دیا، جس سے فوج میں مذہبی آزادی کے معاملات پر سوالات اٹھے۔ بہار میں بعض فوجی اہلکاروں کی حکومت مخالف نعروں کے ساتھ ویڈیوز وائرل ہونے نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا۔

سوشل میڈیا پر بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں، کمزور مورال، مبینہ ہراسانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر عوامی ردعمل نے بھی عسکری قیادت پر دباؤ ڈالا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد صرف سیکیورٹی خدشات کا حل نہیں بلکہ فوج کے اندر بڑھتی ہوئی تنقید، خودنمائی، ہنی ٹریپنگ کے خدشات اور قیادت پر سوالات کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔ یہ اقدامات بھارت میں سول اور عسکری تعلقات، اور فوج کے غیر جانبدار کردار کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نےتجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی فوج نے حال ہی میں اپنے اہلکاروں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ اب فوجی انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر نہ تبصرہ کر سکیں گے، نہ مواد شیئر کر سکیں گے اور نہ ہی کسی مواد کو لائیک کر سکیں گے۔ اس اقدام کو باضابطہ طور پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بتایا گیا ہے، لیکن ماہرین اور مبصرین کے مطابق اس کے پیچھے کئی دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔

بھارت میں فوجی اہلکاروں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کئی ماہ سے زیرِ بحث رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے حساس معلومات یا فوجی امور کا غیر ارادی افشاء ملکی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں فوج نے سخت کنٹرول نافذ کر کے اہلکاروں کو بیرونی اثرات اور ممکنہ معلوماتی خطرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

تاہم، اس پالیسی کے پس منظر میں صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ فوج میں بڑھتی بے چینی اور حکومت کے خلاف اندرونی اختلافات بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق فوج میں بعض پالیسیوں پر اختلافات اور قیادت کے بعض اقدامات پر سوالات کے بڑھتے رجحانات نے اس پابندی کی ضرورت پیدا کی۔ بھارت میں فوج کو نظریاتی طور پر ہندوتوا اثر میں لانے کے خدشات بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔

حالیہ دنوں ایک عیسائی فوجی اہلکار، سیموئیل کمالیسن، کے کورٹ مارشل کا معاملہ سوشل میڈیا پر نمایاں رہا، جس سے فوج میں مذہبی آزادی کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ اس کے علاوہ بہار میں فوجی وردیاں پہن کر حکومت مخالف نعروں کی ویڈیوز وائرل ہونے سے عسکری قیادت پر دباؤ بڑھا۔ یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فوج میں بعض اہلکاروں کی سرگرمیاں کس حد تک عوامی ردعمل پیدا کر سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں، کمزور مورال، مبینہ ہراسانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے حوالے سے عوامی ردعمل نے بھی عسکری قیادت پر دباؤ ڈالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد نہ صرف سیکیورٹی بلکہ فوج کے اندر تنقید، خودنمائی، ہنی ٹریپنگ کے خدشات اور قیادت پر سوالات کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔

یہ اقدامات بھارت میں سول اور عسکری تعلقات اور فوج کے غیر جانبدار کردار کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ فوج کے اندر بڑھتی نگرانی اور پابندیاں مستقبل میں فوجی آزادی اور عوامی اعتماد کے توازن پر سوالات پیدا کر سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین