لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین )ایک خوفناک واقعے نے حجرہ شاہ مقیم کے شہریوں کو صدمے اور حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم میں ایک افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں آوارہ کتوں نے نومولود بچے کی قبر کھود کر لاش کو باہر نکال دیا۔ گلالہ والا کے قبرستان میں یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب چند گھنٹوں پہلے ہی بچے کو دفن کیا گیا تھا۔
مقامی شہریوں کے مطابق، دفن کے بعد چند ہی گھنٹوں میں آوارہ کتوں نے لاش کو قبر سے نکال کر نوچنا شروع کر دیا، جس نے علاقے میں خوف اور اضطراب کی لہر دوڑا دی۔ شہریوں نے فوری طور پر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ایسے المناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
اسی طرح کا واقعہ حال ہی میں بھارت میں بھی پیش آیا تھا، جہاں ایک اسپتال کے اندر آوارہ کتے نے نومولود بچی کی لاش نوچ ڈالی تھی۔ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع سونی پت میں پی جی آئی اسپتال میں سکیورٹی گارڈ نے دیکھا کہ ایک کتا بچی کی لاش سر سے پکڑ کر لے جا رہا تھا۔ گارڈ نے کتے کو روکنے کی کوشش کی، لیکن کتا بچی کی لاش اسپتال کے گیٹ پر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
اسے بھی پڑھیں: آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر لاہور ہائی کورٹ شدید برہم، اہم حکم جاری
سکیورٹی گارڈ نے پولیس کو بتایا کہ وہ گیٹ نمبر 2 پر تعینات تھا اور اس نے خود کتے کو بچی کی لاش لے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس واقعے نے بھارت میں بھی شدید تشویش اور سنسنی پیدا کر دی تھی۔
ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم کے قبرستان گلالہ والا میں ایک نہایت ہی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں حال ہی میں دفن کیے گئے نومولود بچے کی قبر کھود دی گئی اور آوارہ کتوں نے لاش کو باہر نکال کر نوچنا شروع کر دیا۔ اس منظر نے مقامی لوگوں میں شدید خوف، اضطراب اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ واقعہ صرف ایک حادثہ ہی نہیں بلکہ معاشرتی اور شہری نظم و ضبط کے نظام میں گہرے مسائل کی علامت بھی بن گیا ہے۔ ایسے واقعات انسانی ہمدردی، شہری تحفظ اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ شہری اور مکینوں نے حکام سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
اس واقعے کی شدت کو مزید بڑھانے والی بات یہ ہے کہ نومولود بچے کی لاش سمیت اس طرح کے واقعات دیگر شہروں یا ممالک میں بھی سامنے آ چکے ہیں، جیسے بھارت کی ہریانہ میں ایک اسپتال کے اندر آوارہ کتے نے نومولود بچی کی لاش کو نوچا تھا، جس نے عوامی تشویش میں اضافہ کیا تھا۔
پاکستان کے شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جس کا سبب ناقص ضابطہ، ناکافی ویکسینیشن اور بے احتیاطی ہے۔
حجرہ شاہ مقیم میں نومولود بچے کی قبر کھودنے والا واقعہ نہ صرف ایک افسوسناک حادثہ ہے، بلکہ پاکستان میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ عوامی تحفظ، انتظامی صلاحیت، اور قانونی کاروائیوں — خاص طور پر لاہور ہائیکورٹ میں جاری کیس — کے ذریعے اس حساس اور پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عدالت کی شنوائی اور حکومتی اقدامات مل کر ہی اس طرح کے واقعات کا دور رس حل پیش کر سکتے ہیں۔





















