بگ بیش لیگ میں میلبرن اسٹارز کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف ایک خطرناک حادثے سے بال بال بچ گئے، جس نے میدان میں موجود کھلاڑیوں اور کمنٹیٹرز کو بھی لمحہ بھر کے لیے خوفزدہ کر دیا۔
گزشتہ روز بگ بیش لیگ کے 14ویں میچ میں میلبرن اسٹارز اور سڈنی تھنڈرز آمنے سامنے تھے۔ میچ میں حارث رؤف نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 29 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی میچ کا اعزاز اپنے نام کیا۔
میچ کی پہلی اننگز کے آخری اوور کی چوتھی گیند پر سڈنی تھنڈرز کے بیٹر ریس ٹوپلی نے زور دار شاٹ کھیلا، جس پر گیند فضا میں بلند ہو گئی۔ کیچ کے لیے شارٹ تھرڈ مین پر موجود حارث رؤف اور ڈیپ پوائنٹ سے دوڑتے ہوئے ہلٹن کارٹرائٹ نے بیک وقت فل لینتھ ڈائیو لگائی۔
LOOK OUT 🫣
This could have been awful. #BBL15 pic.twitter.com/wJTnyNLSCm
— KFC Big Bash League (@BBL) December 28, 2025
اسی لمحے دونوں کھلاڑی سر کے بل ٹکرانے سے چند انچ کے فاصلے پر رہ گئے۔ یہ منظر اتنا خطرناک تھا کہ کمنٹیٹرز نے بھی فوری طور پر کہا کہ یہ واقعہ انتہائی جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
خوش قسمتی سے دونوں کھلاڑی محفوظ رہے اور کھیل جاری رہا، تاہم اس لمحے نے میدان میں موجود شائقین کے دل دہلا دیے۔
ماہرین کی رائے
سابق فاسٹ بولر اور کرکٹ تجزیہ کار شعیب اختر کے مطابق“فیلڈنگ کے دوران ایسے لمحات کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ حارث رؤف خوش قسمت تھے کہ بڑا نقصان نہیں ہوا۔”
اسپورٹس فزیشن ڈاکٹر عمران ملک کا کہنا ہے“سر کے قریب ہونے والے تصادم انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ جدید کرکٹ میں کمیونیکیشن اور فیلڈنگ پوزیشنز کی بہتر منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔”
آسٹریلوی کمنٹیٹر مارک ہاورڈ کے مطابق“یہ بگ بیش لیگ کے خطرناک ترین لمحات میں سے ایک تھا، مگر خوش قسمتی سے دونوں کھلاڑی محفوظ رہے۔”
یہ واقعہ جدید کرکٹ میں تیز رفتار فیلڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ بگ بیش لیگ جیسے فارمیٹ میں جہاں رفتار، جارحیت اور مکمل کمٹمنٹ بنیادی تقاضے ہیں، وہاں معمولی غلطی بھی سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
حارث رؤف کی یہ خوش قسمتی تھی کہ وہ اس ممکنہ جان لیوا تصادم سے محفوظ رہے، ورنہ سر پر چوٹ نہ صرف بگ بیش لیگ بلکہ آئندہ بین الاقوامی کرکٹ میں بھی ان کی دستیابی پر سوالیہ نشان بن سکتی تھی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ فیلڈنگ کے دوران واضح کمیونیکیشن، ذمہ داریوں کی تقسیم اور حفاظتی پروٹوکولز کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر بڑے میدانوں میں جہاں رفتار زیادہ ہوتی ہے۔





















