نئے سال کی خوشخبری؟ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی تجویز

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے

لاہور؛(رپورٹ۔غلام مرتضی)نئے سال کے آغاز پر عوام کے لیے خوشخبری سامنے آ سکتی ہے، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کا تیل 8 روپے 92 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل 6 روپے 62 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح اگر مجوزہ تجاویز کی منظوری دے دی گئی تو پیٹرول کی قیمت موجودہ 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 252 روپے 85 پیسے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے، جو موجودہ 265 روپے 65 پیسے فی لیٹر سے گھٹ کر تقریباً 257 روپے 06 پیسے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت بھی 180 روپے 54 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر 171 روپے 62 پیسے فی لیٹر تک آ سکتی ہے، جو گھریلو صارفین اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے خاصا ریلیف ثابت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کمی عمل میں آتی ہے تو اس سے نہ صرف عام صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔

حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ کمی نافذ ہو جاتی ہے تو اس کا فائدہ صرف گاڑی استعمال کرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی پڑے گا۔

ماہرِ معیشت ڈاکٹر خرم حسین کا کہنا ہے“پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور صنعتی لاگت میں کمی آتی ہے، جس کا اثر براہِ راست عام آدمی تک پہنچتا ہے۔”

توانائی امور کے تجزیہ کار علی رضا سید کے مطابق“خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں کمی زرعی شعبے اور مال برداری کے لیے نہایت اہم ہے، اس سے دیہی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔”

روزنامہ تحریک کے سینئر رپورٹر غلام مرتضی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمیشہ سے مہنگائی کا سب سے بڑا محرک رہی ہیں۔ ایسے میں نئے سال کے آغاز پر ممکنہ کمی عوامی نفسیات پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

اگرچہ یہ کمی عالمی مارکیٹ کے رجحانات سے مشروط ہے، تاہم حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کی تجویز اس بات کی علامت ہے کہ وہ عوامی دباؤ اور معاشی مشکلات کا ادراک رکھتی ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ

اگر لیوی یا ٹیکسز میں اچانک اضافہ کیا گیا تو ریلیف وقتی ثابت ہو سکتا ہے

مستقل فائدے کے لیے توانائی پالیسی میں طویل المدتی اصلاحات ضروری ہیں

بہر حال، اگر مجوزہ قیمتیں نافذ ہو جاتی ہیں تو یہ 2026 کے آغاز پر عوام کے لیے ایک خوش آئند قدم ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین