آن لائن ویڈیو سے متاثر ہو کر اپنا خون پینے والا نوجوان ہسپتال داخل

حالت اتنی سنگین ہو گئی کہ نوجوان کو فوری طور پر ایمرجنسی میں اسپتال لے جانا پڑا

لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)سوشل میڈیا کے اثرات کبھی کبھار حیران کن اور خطرناک نتائج بھی سامنے لا سکتے ہیں۔ ایک ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ ماسکو میں پیش آیا، جہاں نوجوان نے آن لائن ایک ویڈیو دیکھ کر اپنی صحت کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا، اور اس کا نتیجہ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایک 17 سالہ نوجوان نے اپنے خون کا خود استعمال کرنے کی کوشش میں اسپتال پہنچ کر سب کو حیران کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق نوجوان نے انٹرنیٹ پر دیکھے گئے ایک ویڈیو کلپ کی ترغیب پر یہ قدم اٹھایا، جس میں خون میں ہیموگلوبین کی مقدار بڑھانے کے طریقے دکھائے گئے تھے۔

نوجوان نے مبینہ طور پر سرنج کے ذریعے اپنا خون نکالا اور اسے پی لیا، تاکہ جسم میں آئرن کی سطح بڑھ سکے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی، اسے خون کی الٹیاں آئیں اور بخار نے لپیٹ میں لے لیا۔

حالت اتنی سنگین ہو گئی کہ نوجوان کو فوری طور پر ایمرجنسی میں اسپتال لے جانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے تشخیص کے بعد بتایا کہ اس کے جسم میں شدید زہر پھیل چکا تھا، جس کی وجہ سے فوری طبی مداخلت ضروری تھی۔

طبی عملے کی فوری کوششوں سے نوجوان کی جان تو بچ گئی، لیکن اس کی حالت اور اس واقعے کی وجہ جان کر ڈاکٹروں کو بھی حیرت ہوئی۔ نوجوان نے خود اعتراف کیا کہ اس نے یہ قدم محض سوشل میڈیا پر دیکھی ایک ویڈیو کے اثر میں آ کر اٹھایا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کی دنیا میں پیدا ہونے والے ہر رجحان اور ویڈیو سے بے حد متاثر ہو جاتا ہے۔ یہ اثر بعض اوقات تفریح یا معلومات تک محدود رہتا ہے، لیکن کبھی کبھار یہ نوجوانوں کی زندگی کے لیے شدید خطرہ بھی بن جاتا ہے۔ ماسکو میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس بات کا المناک ثبوت ہے، جہاں ایک 17 سالہ نوجوان نے سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ویڈیو کی ترغیب پر اپنے خون کا استعمال کرنے کی کوشش کی اور اسپتال پہنچنا پڑا۔

اطلاعات کے مطابق نوجوان نے خون میں آئرن کی مقدار بڑھانے کے لیے سرنج کے ذریعے اپنا خون نکالا اور پی لیا۔ ابتدائی طور پر یہ ایک غیرمعمولی اور غیر فطری عمل لگتا ہے، لیکن اگر ہم نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھیں تو سوشل میڈیا کے اثرات اس عمل کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہیں۔ نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ آن لائن ویڈیوز میں دکھائے جانے والے طریقے محفوظ اور مفید ہیں، حالانکہ یہ اکثر غیر سائنسی اور خطرناک ہوتے ہیں۔

نوجوان کی طبیعت کچھ دیر بعد خراب ہونا شروع ہوئی۔ اسے خون کی الٹیاں آئیں، بخار بڑھا اور اس کے خاندان کو فوری طور پر اسپتال لے جانا پڑا۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق، اس کے جسم میں شدید زہر پھیل چکا تھا، جو خون نوشی کے نتیجے میں ہوا۔ خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے فوری مداخلت کے ذریعے نوجوان کی جان بچا لی، لیکن اس واقعے نے ایک واضح انتباہ دیا کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر چیز قابل تقلید نہیں۔

یہ واقعہ نوجوانوں، والدین اور معاشرے کے لیے کئی اہم سوالات کھڑے کرتا ہے:

نوجوانوں کی تربیت اور آگاہی: نوجوان اکثر محدود معلومات کی بنیاد پر خطرناک فیصلے کر لیتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں آن لائن مواد کی صحت اور خطرات کے بارے میں آگاہ کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری: ایسے پلیٹ فارم جو مواد شیئر کرتے ہیں، انہیں نوجوانوں کی حفاظت کے لیے خطرناک یا گمراہ کن ویڈیوز کی نگرانی اور فلٹرنگ کرنی چاہیے۔

صحت اور سائنس کی تعلیم: نوجوانوں کو صحت اور انسانی جسم کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اس طرح کے غیر محفوظ تجربات نہ کریں۔

یہ واقعہ اس بات کا غماز بھی ہے کہ نوجوانوں میں تجربہ کرنے کی خواہش اور آن لائن اثرات کس حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر کلپ یا چیلنج کا تقلید کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب اس کا تعلق جسمانی صحت یا خطرناک تجربات سے ہو۔

ماسکو کے نوجوان کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم، آگاہی، اور والدین کی رہنمائی وقت سے پہلے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو قریب کر دیا ہے، وہیں اس نے نوجوانوں کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کو آن لائن دنیا کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ کوئی اور نوجوان اس طرح کے خطرناک تجربات کا شکار نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین