لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)چین میں زراعت اور دیہی ترقی کے مستقبل کو نئی سمت دینے کے لیے اعلیٰ سطح کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ملک کی زرعی پالیسیوں، دیہی علاقوں کے احیاء، اور کسانوں کی بہبود پر خاص توجہ دی گئی۔ ماہرین اور حکومتی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ دیہی جدید کاری اور زرعی ترقی چین کی مجموعی خوشحالی کے لیے کلیدی ستون ہیں، اور 2026 کے سال کو اس سفر میں سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بیجنگ میںگزشتہ روز سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کی اعلیٰ سطحی ورک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں زراعت، دیہات، اور کسانوں کے موجودہ حالات اور مستقبل کے چیلنجز پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ اس موقع پر 2026 کے زرعی امور اور حکمت عملی کا تعین بھی کیا گیا۔
کانفرنس میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری، صدر مملکت اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین، شی جن پھنگ نے شرکاء کو اہم ہدایات دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سال 2026 پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے اور یہ سال زراعت اور دیہی ترقی کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین کو دیہی علاقوں کی جدید کاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور دیہی علاقوں کے جامع احیاء میں عملی پیش رفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے شہری اور دیہی ترقی کو مربوط کرنے، اناج کی پیداوار بڑھانے، زرعی پیداوار کی مقدار اور معیار کو بہتر بنانے، اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے غربت کے خاتمے کی مہم میں حاصل کردہ کامیابیوں کو مستحکم اور وسعت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، اور ہر علاقے کی مخصوص صورتحال کے مطابق خوبصورت اور پائیدار دیہات کی تعمیر کو فروغ دینے کی ہدایت دی۔
کانفرنس کے دوران شی جن پھنگ کی دی گئی ہدایات کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا اور "سی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کی زرعی اور دیہی جدید کاری اور دیہی احیاء کے فروغ کے بارے میں رائے” کے مسودے پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ زرعی اور دیہی جدید کاری چین کی مجموعی جدید کاری کے لیے نہایت اہم ہیں اور ایک مضبوط زرعی قوم کے قیام کو تیز کرنا ملکی ترقی کے لیے لازمی ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کی حکومت نے زراعت اور دیہی ترقی کو ملکی ترقی کے کلیدی ستون کے طور پر دیکھا ہے۔ حال ہی میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کی ورک کانفرنس اس امر کا ثبوت ہے کہ 2026 میں زرعی شعبے اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے گی۔ اس کانفرنس میں موجودہ صورتحال، چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی کا مفصل جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس میں شریک صدر اور جنرل سکریٹری، شی جن پھنگ نے زور دیا کہ سال 2026 پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے اور اس کا اثر زراعت اور دیہی ترقی کے مستقبل پر بہت گہرا ہوگا۔ انہوں نے شہری اور دیہی ترقی کو مربوط کرنے، دیہات کی جامع احیاء، اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایات دیں۔
شی جن پھنگ کی ہدایات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چین حکومت دیہی جدید کاری کو صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اس کا مقصد دیہی علاقوں میں معیار زندگی کو بہتر بنانا، پائیدار اور خوبصورت دیہات کی تعمیر کرنا، اور غربت کے خاتمے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم اور وسعت دینا بھی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔
زرعی شعبے میں توجہ مرکوز کرنے کے کئی پہلو ہیں:
غذائی پیداوار اور معیار کی بہتری: چین کے لیے اناج کی پیداوار اور اس کے معیار کو بہتر بنانا قومی سلامتی اور خود کفالت کے لیے ضروری ہے۔
کسانوں کی آمدنی اور بہبود: آمدنی میں استحکام دیہی علاقوں کے معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔
دیہی جدید کاری: جدید زرعی ٹیکنالوجیز، مشینی کاری، اور جدید انتظامی طریقے کسانوں کی پیداوار میں اضافہ اور دیہی معیشت میں بہتری لائیں گے۔
شہری-دیہی مربوط ترقی: شہری اور دیہی ترقی کے مابین توازن پیدا کرنا چین کی مجموعی ترقی کے لیے کلیدی ہے۔
خوبصورت دیہات کی تعمیر: یہ منصوبہ دیہی زندگی کے معیار کو بلند کرنے اور ثقافتی و معاشرتی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ہوگا۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ زرعی اور دیہی جدید کاری چین کی مجموعی جدید کاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ مضبوط زرعی قوم کی تعمیر ملک کی طویل مدتی ترقی اور عالمی اقتصادی مقابلہ آرائی کے لیے ضروری ہے۔ چین کی حکومت کی یہ حکمت عملی یہ پیغام دیتی ہے کہ 2026 کو دیہی اور زرعی ترقی کے لیے سنگ میل کا سال بنایا جائے گا۔
چین کے زرعی اور دیہی شعبے میں یہ اقدامات نہ صرف کسانوں اور دیہی باشندوں کی زندگی میں بہتری لائیں گے بلکہ مجموعی ملکی ترقی کو بھی مستحکم کریں گے۔ اس کانفرنس کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ زرعی پیداوار، دیہی جدید کاری، اور شہری-دیہی مربوط ترقی ملک کی ترقیاتی ترجیحات میں سب سے اوپر ہیں۔ 2026 کے سال میں ان اقدامات کے عملی نفاذ سے چین ایک مضبوط، خود کفیل اور جدید زرعی قوم کے طور پر ابھر سکتا ہے۔





















