2025ء کے دوران کتنے پاکستانیوں نے پاسپورٹس بنوائے؟

2025 کے دوران جدید ای پاسپورٹس بنوانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا

لاہور (خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)جب ادارے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنا لیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف اعداد و شمار میں بلکہ شہریوں کے اعتماد میں بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سال 2025 بھی ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کے لیے ایک ایسا ہی تاریخی سال ثابت ہوا، جس میں اصلاحات، سہولتوں اور شفاف نظام کے ذریعے عوام کو وہ خدمات فراہم کی گئیں جو ماضی میں ایک خواب سمجھی جاتی تھیں۔

سال 2025 کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کی جانب سے جاری کی گئی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق یہ سال وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر ڈی جی پاسپورٹس کی قیادت میں انقلابی اقدامات کا سال رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید پرنٹرز کی تنصیب کے ذریعے پاسپورٹس کے دیرینہ بیک لاگ کا مستقل طور پر خاتمہ کر دیا گیا، جس سے شہریوں کو بروقت پاسپورٹ کے حصول میں نمایاں آسانی میسر آئی۔

شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن پاسپورٹس کی پراسیسنگ اور ڈلیوری سروس کا آغاز کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاسپورٹ ہیڈکوارٹرز سمیت ملک بھر کے مختلف پاسپورٹ دفاتر کی تزئین و آرائش مکمل کی گئی تاکہ شہریوں کو بہتر اور باوقار ماحول میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں میں ون ونڈو سروس کا اجرا کیا گیا، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہی جگہ تمام سہولتیں حاصل ہونے لگیں۔

رپورٹ کے مطابق شہریوں کے لیے جدید ای پاسپورٹس متعارف کرائے گئے جبکہ جدید سیکیورٹی فیچرز سے مزین نئی پاسپورٹ بک لیٹ بھی تیار کی گئی، جو عالمی معیار کے عین مطابق ہے۔ عوامی دباؤ کو کم کرنے اور سہولت میں اضافے کے لیے مزید پاسپورٹ دفاتر اور اضافی کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار 13 شہریوں نے پاسپورٹس بنوائے۔ سال 2025 میں نارمل کیٹیگری کے تحت 32 لاکھ 75 ہزار 263 مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس جاری کیے گئے، جبکہ ارجنٹ کیٹیگری میں 18 لاکھ 39 ہزار 487 پاسپورٹس کا اجرا ہوا۔ اسی طرح فاسٹ ٹریک سروس کے تحت 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹس جاری کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران جدید ای پاسپورٹس بنوانے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو عوام کے اعتماد اور جدید سہولتوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2025 ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کے لیے محض ایک سال نہیں، بلکہ ایک عہدِ نو کی علامت ثابت ہوا۔ وہ سال جس نے روایتی بیوروکریسی، سست رفتار نظام اور لمبے انتظار کے دور کو پیچھے چھوڑتے ہوئے شہریوں کے لیے خدمات کو سہل، تیز اور شفاف بنانے کا عہد پورا کیا۔ اس تجزیے میں ہم دیکھیں گے کہ کن اقدامات نے اس تبدیلی کو ممکن بنایا، ان کے مثبت اور منفی اثرات کیا رہے، اور آئندہ چیلنجز کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات کے تحت پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ نے اپنے اہداف نہایت واضح طور پر ترتیب دیے: بیک لاگ کا خاتمہ، عوامی سہولت، ڈیجیٹل اوور ہال اور معیار میں اضافہ۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے جو حکمتِ عملی اپنائی گئی، وہ محض انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ثقافتی تبدیلی کا دروازہ بھی کھولا۔سب سے اہم فیصلہ جدید پرنٹرز کی انسٹالیشن تھا جس نے پرنٹ مٹیرئیل کے معیار اور رفتار دونوں میں ترقی کی راہ ہموار کی، اور نتیجتاً سالوں پر محیط بیک لاگ کا مستقل خاتمہ ممکن ہوا۔

تاریخ میں پہلی بار عوامی سہولت میں اضافے کے لیے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن پاسپورٹس کی پراسیسنگ اور ڈلیوری سروس شروع کی گئی۔ اس کا براہِ راست فائدہ وہ شہری بھگتے جو کام کے اوقات میں دفاتر آ نہیں سکتے تھے یا جن کے پاس ہنگامی سفری ضرورتیں تھیں۔اس اقدام نے عام شہری کے ساتھ ساتھ بزنس کمیونٹی، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور بیرونِ ملک کام کرنے والوں کو بھی ایک قابلِ قدر سہولت فراہم کی، جس کے فوائد طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

پاسپورٹس ہیڈ کوارٹرز اور ملک بھر میں موجود دفاتر کی تزئین و آرائش نے سامنے آنے والے ماحول کو خوشگوار اور پروفیشنل کیا، جو ایک اہم نفسیاتی عنصر بھی ہے۔ جب عوام خود کو باوقار اور قابلِ احترام ماحول میں دیکھتے ہیں، تو وہ ادارے پر اعتماد بھی زیادہ کرتے ہیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی طویل عرصے سے سفارتخانوں میں سروس کے فقدان، لمبے انتظار اور پیچیدہ عمل سے پریشان تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ون ونڈو سروس کا آغاز ایک مضبوط اقدام تھا، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہی جگہ پر مختلف خدمات حاصل کرنے کی سہولت میسر آئی۔ اس کا مثبت اثر نہ صرف شہریوں کی سہولت پر پڑا بلکہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بھی اچھا تاثر قائم ہوا۔

عالمی درجے کے ای پاسپورٹس اور جدید سیکیورٹی فیچرز سے مزین نئی پاسپورٹ بک لیٹ کا اجرا ایک چونکا دینے والی پیش رفت ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، ایسے میں یہ اقدام پاکستان کو نظمِ اوقات، بین الاقوامی معیار اور عالمی سیکیورٹی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔

شہریوں کی سہولت کے لیے نئے پاسپورٹ دفاتر اور کاؤنٹرز قائم کرنا صرف فزیکل انفراسٹرکچر نہیں بلکہ سروس کی دستیابی کو بڑھانے کا عملی ثبوت ہے۔ اس سے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بھی با آسانی خدمات تک رسائی ملتی ہے اور شہریوں کے وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین