کراچی (خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)ہماری روزمرہ خوراک سے جڑی بعض باتیں برسوں سے بطور ’’حقیقت‘‘ مانی جاتی رہی ہیں، حالانکہ جدید سائنس ان میں سے کئی تصورات کو محض غلط فہمیاں قرار دے چکی ہے۔ دیسی گھی کو ’’گڈ فیٹ‘‘ سمجھ کر استعمال کرنا ہو یا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے لہسن پر انحصار، یہ وہ عادات ہیں جنہیں ہم صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ سمجھتے رہے ہیں۔ مگر ماہرینِ صحت اب ان روایتی تصورات پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ لاعلمی میں اپنائی گئی یہی عادات دل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ صحت ڈاکٹر منصور احمد نے دیسی گھی اور لہسن سے متعلق پھیلی ہوئی عام غلط فہمیوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ دیسی گھی کو ’’گڈ فیٹ‘‘ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ ان کے مطابق دیسی گھی اور دیگر حیوانی چکنائیاں دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں اور جدید تحقیق میں ایسی کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں جو ان کے استعمال کو دل کی صحت کے لیے مفید ثابت کرے۔
ڈاکٹر منصور احمد نے واضح کیا کہ دیسی گھی اور زیادہ تر ڈیری مصنوعات انسانی جسم میں ایل ڈی ایل یعنی نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار بڑھاتی ہیں۔ جب یہ کولیسٹرول خون میں حد سے زیادہ ہو جائے تو شریانوں کی اندرونی تہہ میں سوزش پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور یہی عمل آگے چل کر دل کے دورے جیسے جان لیوا مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ صحت کے لیے وہ تیل زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو عام درجہ حرارت پر جمتے نہیں۔ ان کے مطابق جو چکنائیاں ٹھنڈ لگنے پر جم جاتی ہیں، وہ دل اور شریانوں کے لیے نسبتاً زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
لہسن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر منصور احمد نے کہا کہ اگرچہ لہسن میں Statin نامی جز پایا جاتا ہے، مگر اس کی مقدار نہایت معمولی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کولیسٹرول کم کرنے والی ایک چھوٹی سی دوا کے برابر اثر حاصل کرنے کے لیے ایک انسان کو روزانہ تقریباً ایک کلو لہسن کھانا پڑے گا، جو عملی طور پر ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لہسن اور پیاز خون کو کسی حد تک پتلا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم جدید میڈیکل سائنس کے مطابق ان کے اثرات اتنے طاقتور نہیں کہ انہیں باقاعدہ علاج کا متبادل سمجھا جائے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دل کی حفاظت کے لیے متوازن غذا، درست چکنائی کا انتخاب اور مستند طبی مشورے پر عمل ہی بہترین راستہ ہے، نہ کہ روایتی غلط فہمیوں پر اندھا اعتماد۔
طبی ماہرین کے مطابق باقاعدہ ورزش جسمانی اور ذہنی صحت کی بنیاد ہے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ہلکی یا معتدل ورزش—جیسے تیز چہل قدمی، سائیکلنگ یا ہلکی دوڑ—دل کو مضبوط بناتی ہے، بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہے اور خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی سطح کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ورزش نہ صرف وزن کو کنٹرول میں رکھتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرنے، نیند بہتر بنانے اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی دائمی بیماریوں، خصوصاً دل کے امراض، ذیابیطس اور موٹاپے کے خطرات کو کم کرنے میں ورزش ایک مؤثر حفاظتی ذریعہ ہے۔
اسے بھی پڑھیں: دل کی صحت کیلئے پولی فینولز سے بھرپور غذائیں انتہائی مفید قرار
دوسری جانب ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جن افراد کو پہلے سے کوئی بیماری لاحق ہو، ان کے لیے صرف ورزش پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول یا دل کے مریضوں کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔ ادویات بیماری کی شدت کو قابو میں رکھتی ہیں اور پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد دیتی ہیں، جبکہ ورزش ان کے اثرات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کی رائے میں بہترین صحت کے لیے ورزش اور میڈیکشن کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ نہ تو صرف دوا کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ورزش کو غیر ضروری سمجھا جا سکتا ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ادویات کا استعمال—یہ چاروں مل کر ہی بہتر اور محفوظ زندگی کی ضمانت بنتے ہیں۔





















