شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی معروف سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ وہ ماضی میں شادی شدہ تھیں، تاہم بعض ناگزیر حالات کے باعث انہوں نے خلع حاصل کی۔
رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات پہلی مرتبہ عوام کے سامنے لا رہی ہیں اور اس سے قبل انہوں نے نہ تو اپنی شادی پر بات کی اور نہ ہی علیحدگی کے معاملے کو میڈیا میں زیرِ بحث لایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی فرد کے خلاف الزامات یا منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں، لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ خلع ہی دونوں فریقین کے لیے تکلیف ختم کرنے کا واحد راستہ رہ گیا تھا۔
ایک اور چونکا دینے والے انکشاف میں رابی پیرزادہ نے بتایا کہ ان کی پہلی شادی والدین کے دباؤ میں وٹہ سٹہ کے تحت ہوئی تھی، جس پر اب انہیں شدید افسوس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وٹہ سٹہ جیسی شادیوں میں اکثر مسائل جنم لیتے ہیں، کیونکہ فیصلے فریقین کی مرضی اور ذہنی ہم آہنگی کے بغیر کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں اداکاری اور گلوکاری کے میدان میں سرگرم رہنے والی رابی پیرزادہ اب شوبز سے مکمل طور پر الگ ہو چکی ہیں۔
اس وقت وہ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر، مصورہ اور خطاط کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، جب کہ وہ اپنا بیوٹی برانڈ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ رابی پیرزادہ حال ہی میں ایک بار پھر نکاح کے بندھن میں بندھی ہیں، جس کی تصاویر انہوں نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں، اور مداحوں کی جانب سے انہیں نئی زندگی کے آغاز پر نیک تمنائیں دی جا رہی ہیں۔
سماجی و نفسیاتی تجزیہ
ماہرین کے مطابق مشہور شخصیات کی ذاتی زندگی پر گفتگو اکثر معاشرتی دباؤ اور روایتی رویّوں کو بے نقاب کرتی ہے۔
رابی پیرزادہ کا اعتراف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی دباؤ کے تحت کیے گئے فیصلے اکثر ذہنی اور جذباتی مسائل کو جنم دیتے ہیں۔
وٹہ سٹہ جیسے رواج کو سماجی ماہرین ایک ایسا بندھن قرار دیتے ہیں جہاں ایک غلط فیصلہ دو خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سماجی ماہرین: وٹہ سٹہ شادی میں فرد کی مرضی کو نظرانداز کیا جاتا ہے، جو بعد میں شدید ذہنی دباؤ اور تعلقات کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین: خلع کا فیصلہ اکثر خود اعتمادی کی بحالی اور ذہنی سکون کے لیے ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر جب رشتہ اذیت کا باعث بن جائے۔
سوشل میڈیا مبصرین: رابی پیرزادہ کا کھل کر بات کرنا دیگر خواتین کے لیے حوصلہ افزا قدم ہے جو معاشرتی دباؤ کے باعث خاموش رہتی ہیں۔





















