سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تمام وائرس اور مائیکروبز انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے بلکہ کئی جراثیم ایسے بھی ہیں جو جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
طبی جریدے Microbial Biotechnology میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت آسٹریلیا کی Flinders University کے سائنس دان ڈاکٹر جیک رابنسن نے کی۔
تحقیقی مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام بیکٹیریا یا وائرس بیماری کا سبب نہیں بنتے، بلکہ کچھ مائیکروبز انسانی جسم کو صحت مند رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن کے مطابق جدید سائنسی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مختلف ماحولیاتی مائیکروبایومز اور قدرتی حیاتی کیمیائی عناصر سے سامنا انسانی صحت میں بہتری کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جراثیم کو صرف بیماری، انفیکشن اور آلودگی سے جوڑا جاتا تھا، لیکن اب تحقیق اس تصور کو بدل رہی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صحت بخش مائیکروبز مدافعتی نظام کی درست تربیت، میٹابولزم کی بہتری، بیماریوں سے بچاؤ، ذہنی دباؤ میں کمی اور ماحولیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق مائیکروبز جلد، تولیدی صحت اور ذہنی سکون کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، جبکہ یہ غذائی اجزا کے بہتر ہاضمے، سوزش میں کمی اور خون میں شوگر کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
تحقیق میں وضاحت کی گئی کہ انسانی جسم میں موجود مائیکروبز کے مجموعے کو "مائیکرو بایوم” کہا جاتا ہے، جس میں فنگی، الجی، بیکٹیریا، وائرس، پروٹوزوا، آرکی اور پرایون شامل ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر جیک رابنسن کا کہنا ہے کہ اگر صحت مند مائیکروبز کو بحال کیا جائے تو انسانی صحت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ مائیکروبز وٹامنز پیدا کرتے ہیں، ہاضمے میں مدد دیتے ہیں اور مدافعتی نظام کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ نقصان دہ جراثیم کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔
سائنسی و طبی تجزیہ
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق جدید طب کے اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ صفائی اور جراثیم کشی میں حد سے زیادہ سختی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
جسم کو ہر جراثیم سے پاک کرنے کی کوشش دراصل فائدہ مند مائیکروبز کو بھی ختم کر دیتی ہے، جس سے الرجی، خودکار مدافعتی بیماریاں اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ تحقیق مستقبل میں پروبایوٹکس، مائیکروبیل تھراپی اور قدرتی ماحولیاتی صحت کے شعبوں میں انقلابی پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ حیاتیات: انسانی جسم ایک ماحولیاتی نظام ہے، جہاں اچھے اور برے جراثیم کا توازن صحت کی کنجی ہے۔
طبی ماہرین: مائیکرو بایوم کی خرابی موٹاپے، ذیابیطس، ڈپریشن اور آنتوں کی بیماریوں سے جڑی ہوئی ہے۔
ماحولیاتی سائنس دان: حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ صرف ماحول نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔





















