کراچی :(رپورٹ – غلام مرتضی)ایران میں شدید معاشی بحران کے باعث پھیلنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران عدلیہ نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے ملک بھر میں پھیلتے پرتشدد مظاہروں کے تناظر میں فسادی عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پرامن مظاہرین کے جائز مطالبات سنے جائیں گے، تاہم تخریب کاری، تشدد اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے میزان نیوز کے مطابق چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی پراسیکیوٹرز کو حکم دیا ہے کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں ایران میں بدامنی اور افراتفری پھیلانے کی سازش کر رہی ہیں، تاہم اسلامی جمہوریہ عوامی احتجاج اور شرپسندی کے درمیان واضح فرق رکھتی ہے۔
احتجاج کی صورتحال
مہنگائی، بے روزگاری اور ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف مظاہرے نویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج اب 78 شہروں تک پھیل چکا ہے، جہاں طلبہ، مزدور اور عام شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے متعدد مقامات پر آنسو گیس اور براہِ راست فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
جانی و مالی نقصان
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق
20 سے زائد مظاہرین ہلاک
50 سے زیادہ افراد زخمی
تقریباً 1000 مظاہرین گرفتار
رپورٹس کے مطابق کئی یونیورسٹیز کے طلبہ احتجاج میں پیش پیش ہیں، جس سے حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
حکومتی ریلیف اعلان
احتجاجی دباؤ کم کرنے کے لیے حکومت نے ہر شہری کو آئندہ چار ماہ تک ماہانہ تقریباً 7 امریکی ڈالر کے مساوی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ رقم نقد کے بجائے کریڈٹ کی صورت میں فراہم کی جائے گی، جسے بنیادی ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
پارلیمنٹ اسپیکر کا دوٹوک مؤقف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ
عوام کے جائز مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا،
لیکن بیرونی سازشوں اور مداخلت کو ہر صورت کچل دیا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض احتجاجی سرگرمیاں بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس وقت معاشی دباؤ، داخلی بے چینی اور عالمی پابندیوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔
ریال کی قدر میں شدید کمی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی غصے کو ایک منظم تحریک میں بدل دیا ہے۔
عدلیہ کی سخت وارننگ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست اب سیکیورٹی اسٹیٹ اپروچ کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ماہرین
اگر معاشی اصلاحات فوری نہ کی گئیں تو صرف سیکیورٹی اقدامات احتجاج کو وقتی طور پر دبا سکتے ہیں، ختم نہیں۔
معاشی تجزیہ کار
ماہانہ 7 ڈالر کا ریلیف عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے، مسئلہ بنیادی ڈھانچے کا ہے۔
علاقائی امور کے ماہرین
ایران کی داخلی صورتحال خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ پہلے سے تناؤ موجود ہے۔





















