کرایے کے پیسوں پر دنیا میں سب سے شاہانہ زندگی گزارنے والا بادشاہ کون ہے؟

تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ بادشاہ رام کی کل دولت تقریباً 50 ارب ڈالر یا 4.5 لاکھ کروڑ روپے کے قریب ہے

تصور کریں ایک ایسا دنیا جہاں ہر طرف شاہی محل ہوں، ہزاروں جائیدادیں آپ کی ملکیت ہوں، لگژری کاریں اور نجی جیٹ آپ کی سہولت کے لیے تیار ہوں، اور ہر قدم پر دولت کی چھاپ نظر آئے۔ ایک ایسا عالم جہاں معمولی زندگی کے رنگ اور عام انسان کی فکریں ایک لمحے میں غائب ہو جائیں۔ یہی وہ دنیا ہے جہاں تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن یعنی کنگ رام کا ہر دن گزرتا ہے،ایک شاہانہ کہانی جو حقیقت سے زیادہ خواب جیسی لگتی ہے۔

کرایے کے پیسوں پر دنیا میں سب سے شاہانہ زندگی گزارنے والا بادشاہ کون ہے؟

اگر دنیا کے سب سے امیر شخص کی بات کی جائے تو فوری طور پر ذہن میں ایلون مسک کا نام آتا ہے، اور یہ بالکل درست ہے۔ لیکن جب شان و شوکت اور شاہانہ زندگی کی بات ہوتی ہے تو تھائی لینڈ کے بادشاہ، مہا وجیرالونگ کورن جنہیں کنگ رام بھی کہا جاتا ہے اپنی مثال آپ ہیں۔

بادشاہ رام کو دنیا کا سب سے شاندار بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس ایلون مسک جتنی دولت نہ ہو، لیکن ان کی شاہانہ زندگی اور پرتعیش طرز زندگی کسی بھی امیر ترین شخص میں حسد پیدا کر دے۔

دنیا میں کئی اور بادشاہ بھی ہیں جن کے پاس بے پناہ دولت موجود ہے، لیکن بادشاہ رام اپنی منفرد شان کی وجہ سے سب سے الگ اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی دولت میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ان کی ملکیت میں موجود کرایہ کی آمدنی ہے، جو ان کے خزانے کو دن بہ دن بڑھا رہی ہے۔

تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ بادشاہ رام کی کل دولت تقریباً 50 ارب ڈالر یا 4.5 لاکھ کروڑ روپے کے قریب ہے۔ کراؤن پراپرٹی بیورو، جسے بادشاہ نے 2018 میں اپنے کنٹرول میں لیا، آج بھی ان کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے اور ان کی دولت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

کرایے کے پیسوں پر دنیا میں سب سے شاہانہ زندگی گزارنے والا بادشاہ کون ہے؟

بادشاہ رام کی دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تھائی لینڈ بھر میں جائیدادوں کے مالک ہیں، جن سے ہر سال کروڑوں روپے کرایہ کی صورت میں ان کے خزانے میں شامل ہوتے ہیں۔ اور یہ تو صرف کرایہ ہے، جائیدادوں کی اصل قیمت تو ایک الگ ہی دنیا ہے۔

تھائی بادشاہ رام دوم کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ یہی کرایہ ہے جو وہ اپنی بے پناہ زمینوں اور جائیدادوں سے وصول کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، وہ تھائی لینڈ میں تقریباً 6,560 ہیکٹر (16,210 ایکڑ) اراضی کے مالک ہیں، جس پر 40,000 سے زائد جائیدادیں قائم ہیں۔

ان میں سے 17,000 سے زیادہ جائیدادیں صرف بنکاک میں ہیں، جن میں تجارتی عمارتیں، ہوٹل، محلات اور ریزورٹس شامل ہیں۔ واضح ہے کہ یہ جائیدادیں ہر سال بادشاہ کے لیے کروڑوں روپے کرایہ کے طور پر پیدا کرتی ہیں اور یہ ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ستون ہے۔

راجہ رام سیام کمرشل بینک کے تقریباً 23 فیصد حصص کے مالک بھی ہیں، جو تھائی لینڈ کا دوسرا سب سے بڑا بینکنگ گروپ ہے۔ علاوہ ازیں، وہ سیام سیمنٹ گروپ میں 33 فیصد حصص کے مالک ہیں، جو ملک کے دوسرے سب سے بڑے صنعتی گروپ میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دونوں ذرائع ان کی دولت میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہیں اور انہیں دنیا کا امیر ترین بادشاہ بناتے ہیں۔

کرایے کے پیسوں پر دنیا میں سب سے شاہانہ زندگی گزارنے والا بادشاہ کون ہے؟

بادشاہ رام کے پرتعیش طرز زندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اپنی ہر جائیداد میں صرف ایک رات گزاریں، تو انہیں مختلف جائیدادوں میں 47 سال لگ جائیں گے۔

مزید برآں، ان کے پاس 38 نجی جیٹ طیارے اور ہیلی کاپٹرز کا بیڑا ہے، جن میں جدید ترین اور لگژری طیارے شامل ہیں۔ کنگ رام کے محل میں 300 سے زیادہ لگژری کاریں ہیں، جن میں رولز رائس، بینٹلی اور مرسڈیز جیسی سپر کاریں شامل ہیں۔

اور یہ تو صرف زمین اور گاڑیاں ہیں۔ بادشاہ کے لگژری اثاثوں میں 52 سونے کی کشتیوں کے علاوہ، قیمتی ہیرے، جواہرات اور سونے و چاندی کے زیورات بھی شامل ہیں، جو ان کی بے پناہ دولت اور شاہانہ شان کا ایک منفرد مظہر ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین