برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی AI اوورویوز بعض اوقات صحت سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
یہ AI اوورویوز گوگل سرچ کے نتائج کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں اور فوری طبی خلاصہ فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم تحقیق کے مطابق یہ خلاصے کئی مواقع پر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دیا، جبکہ طبی ماہرین کے مطابق یہ مشورہ مریض کی صحت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ سے متعلق فراہم کی گئی معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس سے سنگین بیماری میں مبتلا افراد خود کو غلط طور پر صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔
خواتین کے کینسر ٹیسٹ، خصوصاً پیپ ٹیسٹ، سے متعلق بھی غلط معلومات سامنے آئیں، جہاں اسے بعض سرچ نتائج میں اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ قرار دیا گیا، حالانکہ یہ سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے ہوتا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق گوگل کے AI اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں، کھانے کی عادات اور ذہنی دباؤ سے متعلق بھی ایسے مشورے دیے جو ماہرین کے نزدیک خطرناک ہیں۔
ماہرین کی رائے
مریضوں کے حقوق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کے AI اوورویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات پیش کر کے صارفین کی صحت کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق لوگ بیماری کے دوران فوری تسلی کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، اور اگر اس وقت غلط معلومات ملیں تو مریض بروقت علاج سے محروم رہ سکتا ہے۔
کینسر سے متعلق فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ ایسی معلومات مریضوں کو غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ خلاصے سہولت تو فراہم کرتے ہیں، مگر صحت جیسے حساس شعبے میں ایک معمولی غلطی بھی انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
AI کو ڈاکٹر کا متبادل سمجھنا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں طبی سہولتوں تک رسائی محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک AI طبی معلومات کو سخت جانچ اور ریگولیشن کے دائرے میں نہیں لایا جاتا، اس پر مکمل بھروسہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔





















