شہریوں کو فالج سے بچانے کیلئے پنجاب حکومت کا ہر ضلع میں اسٹروک سنٹرز کے قیام کا فیصلہ

اس انقلابی پروگرام کا مقصد فالج کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)کبھی ایک لمحے میں بولنے کی طاقت چھن جانا، کبھی اچانک ہاتھ پاؤں کا مفلوج ہو جانا اور کبھی زندگی بھر کی معذوری کا خطرہ—فالج ایک ایسی خاموش آفت ہے جو بغیر وارننگ کے انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ مگر اگر یہی مریض چند گھنٹوں کے اندر درست علاج تک پہنچ جائے تو معجزہ ممکن ہو جاتا ہے۔ اسی امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے، جو ہزاروں زندگیاں بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحت کے شعبے میں ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز اقدام کا اعلان کرتے ہوئے صوبے کے ہر ضلع میں جدید اسٹروک سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس انقلابی پروگرام کا مقصد فالج کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت فالج کے مریض کو چار گھنٹوں کے گولڈن آور کے اندر اسپتال پہنچا کر فوری طبی سہولت دی جائے گی۔ پنجاب کے تمام ضلعی اسپتالوں میں جدید اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے جہاں ماہر نیورولوجسٹ اور پیڈز نیورولوجسٹ تعینات ہوں گے۔ ہر اسپتال میں سی ٹی اسکین مشین ہر وقت فعال رہے گی جبکہ فالج کے فوری علاج کے لیے ٹی پی اے اور جدید ٹی این کے انجکشن بھی دستیاب ہوں گے۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق یہ جامع اسٹروک/فالج مینجمنٹ پروگرام مرحلہ وار پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 30، دوسرے مرحلے میں 15 اور آخری مرحلے میں باقی 24 ضلعی اسپتالوں میں اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فزییشنز کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ بروقت تشخیص اور فوری انجکشن کے ذریعے مؤثر علاج کر سکیں۔

مزید برآں، وزیرِ اعلیٰ نے ایک بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے ذریعے فالج کی علامات اور چار گھنٹوں کے گولڈن آور کی اہمیت سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کا وژن یہ ہے کہ کسی بھی مریض کو ایمرجنسی کی صورت میں دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے اور ہر شہری کو اپنے قریبی اسپتال میں بروقت اور معیاری علاج میسر ہو۔

یہ پروگرام پنجاب کے صحت کے نظام میں ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو صوبے کے ہر ضلع میں جدید اور یکساں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط اور جامع بنیاد فراہم کرے گا۔

اسٹروک سینٹر کیا ہوتا ہے؟ 

اسٹروک سینٹر دراصل ایک خصوصی طبی یونٹ ہوتا ہے جو صرف فالج (Stroke) کے مریضوں کے فوری، درست اور جدید علاج کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ چونکہ فالج ایک ایسی ایمرجنسی بیماری ہے جس میں ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے، اس لیے اسٹروک سینٹر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کو کم سے کم وقت میں تشخیص اور علاج فراہم کیا جائے تاکہ جان بچائی جا سکے اور مستقل معذوری سے بچاؤ ممکن ہو۔

اسٹروک سینٹر کے فوائد

جان بچانے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں
عمر بھر کی معذوری سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے
مہنگے اور طویل علاج کی ضرورت کم ہو جاتی ہے
مریض جلد صحت یاب ہو کر گھر واپس جا سکتا ہے

اسٹروک سینٹر عام اسپتال سے کیسے مختلف ہے؟

عام اسپتال میں فالج کے مریض کو:
مختلف ٹیسٹوں کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے
ماہر نیورولوجسٹ ہر وقت دستیاب نہیں ہوتے
قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے
جبکہ اسٹروک سینٹر میں:
مریض کے داخل ہوتے ہی اسٹروک الرٹ جاری ہو جاتا ہے
چند منٹوں میں سی ٹی اسکین اور تشخیص مکمل ہو جاتی ہے
فوری طور پر درست علاج شروع کر دیا جاتا ہے

چار گھنٹے کا "گولڈن آور” کیوں اہم ہے؟

فالج کے علاج میں پہلے چار سے ساڑھے چار گھنٹے کو گولڈن آور کہا جاتا ہے۔
اگر اس دوران مریض کو اسٹروک سینٹر پہنچا کر درست دوا یا انجکشن لگا دیا جائے تو:
دماغ کو مستقل نقصان سے بچایا جا سکتا ہے
مریض دوبارہ چلنے، بولنے اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے
معذوری اور اموات کی شرح میں نمایاں کمی آتی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین