اٹلی میں ایک غیر معمولی قانونی تنازع سامنے آیا ہے جہاں ٹک ٹاک پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو نے ایک شادی شدہ شخص کی بے وفائی کو بے نقاب کر دیا۔
مذکورہ شخص ایک ریسٹورنٹ کی پروموشنل ٹک ٹاک ویڈیو میں کسی دوسری خاتون کے ساتھ دکھائی دیا، جسے بعد ازاں اس کی اہلیہ نے دیکھ لیا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد خاتون نے اسے شوہر کی بے وفائی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے علیحدگی اختیار کر لی اور شوہر کو گھر سے نکال دیا۔
واقعے کے بعد 42 سالہ شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو اس کی اجازت کے بغیر بنائی اور سوشل میڈیا پر جاری کی گئی، جو اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔
شوہر نے ریسٹورنٹ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی ازدواجی زندگی تباہ ہوئی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ویڈیو اہلیہ تک خود بخود پہنچی یا کسی تیسرے فرد نے شوہر کو پہچان کر یہ ویڈیو اس تک پہنچائی۔
تاہم ویڈیو میں واضح طور پر شوہر کو ایک خاتون کے ساتھ رومانوی ماحول میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس نے اپنی اہلیہ کو بتایا تھا کہ وہ دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ ڈنر پر جا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق عوامی مقامات پر بنائی گئی ویڈیوز اور پرائیویسی کے قوانین کے درمیان توازن ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریسٹورنٹ ایک عوامی مقام ہے، لیکن کسی فرد کو بغیر اجازت اشتہاری مہم کا حصہ بنانا قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل پرائیویسی کے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی وائرل نوعیت کسی فرد کی ذاتی زندگی پر گہرے اور ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
یہ واقعہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی طاقت اور خطرات دونوں کو اجاگر کرتا ہے۔
ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز جہاں کاروبار کی تشہیر کا ذریعہ بن چکے ہیں، وہیں یہ افراد کی نجی زندگی کو غیر ارادی طور پر عوام کے سامنے لا سکتے ہیں۔
یہ کیس اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا سچ سامنے آ جانا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے یا عوامی رویے کا منطقی نتیجہ۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ مستقبل میں کاروباری اداروں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔





















