ایران میں احتجاج بے قابو، حکومت نے پورے ملک کا انٹرنیٹ بند کر دیا

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ہران:(خصوصی رپورٹ-غلام مرتضی )ایران ایک بار پھر شدید داخلی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں بدترین معاشی حالات نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے NetBlocks نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی سطح کا انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام حکومت کی جانب سے جاری ملک گیر احتجاج کو دبانے کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بلیک آؤٹ ایسے وقت میں کیا گیا جب دارالحکومت Tehran سمیت ملک کے بڑے شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، سڑکیں بلاک کیں اور حکومتی نظام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

قطری خبر رساں ادارے کے نمائندے توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے کے بعد شہر کے متعدد علاقوں میں مکمل بدامنی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی شاہراہیں بند تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ سیاسی قیادت کے خلاف سخت اور غیر معمولی نعرے سنائی دیے۔

اسدی کے مطابق معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور نچلا متوسط طبقہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔

احتجاج دسمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئے جب ایرانی ریال تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

اب یہ احتجاج محض معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے بلکہ رفتہ رفتہ سیاسی تبدیلی اور نظام کے خلاف تحریک کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Tabriz، Isfahan، Mashhad اور Kerman سمیت ایران کے تمام 31 صوبوں میں احتجاج پھیل چکا ہے، جبکہ کئی شہروں میں بازار مکمل ہڑتال پر ہیں۔

حکومت کی جانب سے متضاد پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ صدر Masoud Pezeshkian نے سیکیورٹی فورسز کو تحمل کا حکم دیا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے

سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس وقت 2019 اور 2022 کے احتجاج سے بھی زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت عوامی بیانیے اور اطلاعاتی جنگ میں کنٹرول کھو چکی ہے۔
اگر احتجاج کا دائرہ اسی طرح وسیع رہا تو ریاستی ڈھانچے پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاست تک پھیلنے کا امکان ہے۔

 ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے

“انٹرنیٹ کی بندش وقتی طور پر معلومات روک سکتی ہے، مگر عوامی غصے کو ختم نہیں کر سکتی۔ ایران میں یہ بحران اب صرف معاشی نہیں بلکہ نظامی ہو چکا ہے۔”

انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق“اگر تشدد کا سلسلہ نہ رکا تو عالمی دباؤ اور پابندیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔”

 روزنامہ تحریک کے رپورٹر غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران میں جاری حالیہ مظاہرے محض وقتی عوامی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرے، ہمہ جہت اور طویل المدتی بحران کی علامت بن چکے ہیں۔ معاشی بدحالی، کرنسی کی تاریخی گراوٹ، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی قلت نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ احتجاج اب صرف مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ براہِ راست ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی حکومت اس تحریک کو سنبھالنے میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماضی میں بھی ایران نے 2019 اور 2022 کے احتجاج کے دوران انٹرنیٹ بند کیا، مگر اس کے نتائج حکومت کے حق میں زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔ اس بار صورتحال اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ احتجاج ملک کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکا ہے، جو ریاستی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی ریال کی گراوٹ نے عام شہری کی قوتِ خرید کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ مزدور طبقہ، سرکاری ملازمین اور تاجر طبقہ سب یکساں دباؤ میں ہیں۔ بازاروں کی ہڑتال اس بات کا اشارہ ہے کہ اب صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ معیشت کے دل میں بھی بغاوت پنپ رہی ہے۔ جب تاجر اور صنعت کار بھی نظام سے مایوس ہو جائیں تو ریاست کے لیے حالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ مظاہرے 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک سے بھی زیادہ وسیع اور منظم دکھائی دیتے ہیں۔ اُس وقت احتجاج کا محور سماجی آزادی تھا، مگر اب مرکزِ نگاہ معاشی بقا اور نظام کی اہلیت بن چکا ہے۔ یہی تبدیلی حکومت کے لیے سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ معاشی سوال ہر طبقے کو متحد کر دیتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کو اگرچہ تحمل کی ہدایات دی جا رہی ہیں، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ طاقت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں اور گرفتاریوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست عوامی غصے کو صرف طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہے تو بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہ صورتحال ایران کے لیے نئے مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ اگر مظاہرے اسی شدت سے جاری رہے تو عالمی دباؤ، سفارتی تنہائی اور ممکنہ نئی پابندیاں خارج از امکان نہیں۔ خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے، اور ایران کا اندرونی عدم استحکام مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا سکتا ہے۔

حتمی طور پر دیکھا جائے تو ایران اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر حکومت نے معاشی اصلاحات، شفاف مکالمے اور حقیقی سیاسی لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ احتجاج ایک بڑے سیاسی بھونچال کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ بند کر کے آوازیں وقتی طور پر خاموش کی جا سکتی ہیں، مگر عوامی بے چینی کو مستقل طور پر دبانا اب آسان نہیں رہا۔

یہ محض احتجاج نہیں، یہ ایک نظام کے خلاف اجتماعی سوال بن چکا ہے۔اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے سوال دیر یا بدیر اپنا جواب لے کر رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین