ایکس نے ایرانی جھنڈے کے ایموجی میں بڑی تبدیلی کر دی

سرکاری پرچم کو ہٹا کر اس کی جگہ پرانے ایرانی جھنڈے کو شامل کر دیا گیا ہے

لاہور: (خصوصی رپورٹ-غلام مرتضیٰ)ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایران کے جھنڈے کے ایموجی میں اچانک اور اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔

ایکس کے ایموجی سیکشن میں موجود اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری پرچم کو ہٹا کر اس کی جگہ پرانے ایرانی جھنڈے کو شامل کر دیا گیا ہے، جس میں تلوار تھامے ہوئے شیر اور سور کی علامت موجود ہے۔

یہ پرانا ڈیزائن 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل ایران کے قومی پرچم کا حصہ تھا، جب ملک میں بادشاہت کا نظام قائم تھا۔

نئے ایموجی میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موجودہ سرکاری نشان، جس میں لفظ ’’اللہ‘‘ شامل تھا، مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی فی الحال ایکس کے ویب ورژن پر زیادہ واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے، جبکہ موبائل ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز پر یہ مکمل طور پر لاگو نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی محض تکنیکی اپ ڈیٹ نہیں بلکہ ایک حساس سیاسی پس منظر میں سامنے آئی ہے، کیونکہ ایران میں اس وقت شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی حکومت کے مخالف حلقے اور بیرونِ ملک مقیم ایرانی تارکینِ وطن طویل عرصے سے شیر و سور والے پرچم کو موجودہ نظام کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

ایکس کی جانب سے اس تبدیلی پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

ماہرین کی رائے

ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق قومی پرچم جیسے حساس علامات میں تبدیلی صرف تکنیکی معاملہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ریاستی خودمختاری اور داخلی معاملات میں بالواسطہ مداخلت کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا ریسرچرز کے مطابق پلیٹ فارمز پر علامتی تبدیلیاں اکثر عوامی رائے سازی اور بیانیہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر جب معاملہ کسی بحران زدہ ملک سے متعلق ہو۔

روزنامہ تحریک کے صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  ایکس کی جانب سے ایرانی جھنڈے کے ایموجی میں کی گئی یہ تبدیلی بظاہر ایک معمولی ڈیجیٹل ایڈٹ لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک گہرا سیاسی پیغام لیے ہوئے ہے۔ ایران اس وقت شدید داخلی دباؤ، معاشی بحران اور ملک گیر احتجاجات کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں پرانے شاہی دور کے جھنڈے کو نمایاں کرنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔

یہ اقدام ان قوتوں کو تقویت دے سکتا ہے جو موجودہ ایرانی نظام کے خلاف متبادل شناخت اور علامت تلاش کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا آج صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ نظریاتی جنگ کا میدان بن چکا ہے، جہاں ایموجی جیسی بظاہر چھوٹی چیزیں بھی بڑے بیانیے تشکیل دیتی ہیں۔

اگر ایک عالمی پلیٹ فارم کسی ملک کے سرکاری نشان کو نظر انداز کرتا ہے تو یہ مستقبل میں سفارتی تنازعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تبدیلی کو محض تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین