رجب بٹ کی شادی تنازع کا شکار، سوشل میڈیا پر اسکرین شاٹس وائرل

رجب بٹ کی ازدواجی زندگی شدید دباؤ کا شکار ہے

لاہور:(خصوصی رپورٹ -غلام مرتضی )تنازعات کی زد میں رہنے والے معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، تاہم اس بار معاملہ ان کے یوٹیوب یا کسی عوامی بیان سے نہیں بلکہ ان کی ذاتی اور ازدواجی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

رجب بٹ، جو اکثر اپنے بے باک انداز، قانونی تنازعات اور سوشل میڈیا جھگڑوں کی وجہ سے زیرِ بحث رہتے ہیں، حالیہ دنوں وکلا سے تلخ کلامی کے بعد خبروں میں تھے، مگر اب ان کی شادی سے متعلق سنگین صورتحال سامنے آ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات اور الزامات کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا کہ رجب بٹ کی ازدواجی زندگی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس بحران کی وجہ مبینہ طور پر ان کے سالے عون محمد کی جانب سے سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات اور الزامات بنے، جنہوں نے معاملے کو مزید بگاڑ دیا۔

اس صورتحال پر رجب بٹ نے خاموشی توڑتے ہوئے انسٹاگرام پر اسکرین شاٹس کے ساتھ ایک سخت پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب یہ سب برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔

رجب بٹ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مزید آڈیوز، ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس موجود ہیں، مگر وہ فی الحال تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ اور سالے کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذاتی معاملات کو عوامی تماشہ بنایا جاتا رہا تو وہ قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس تنازع میں ان کی والدہ، بہن، خاندان کے دیگر افراد اور یہاں تک کہ کمسن بچے کو بھی سوشل میڈیا پر تنقید اور نفرت کا نشانہ بنایا گیا، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

رجب بٹ نے الزام عائد کیا کہ ذاتی معلومات کو جان بوجھ کر لیک کیا جا رہا ہے، ہمدردی حاصل کرنے کے لیے من گھڑت کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں اور سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا بیٹا کیوان ان کی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح ہے اور اس معاملے پر مزید عوامی بحث نہیں ہوگی۔

پیغام کے اختتام پر رجب بٹ نے کہا کہ شادی کا مستقبل اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر ذاتی کردار کشی، خاندان کی تذلیل اور بچوں کو تنازعات میں گھسیٹنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 ماہرین کی رائے

سوشل میڈیا اینالسٹ اور ڈیجیٹل لاء ایکسپرٹس کے مطابق خاندانی معاملات کو عوامی پلیٹ فارمز پر لانا اکثر قانونی پیچیدگیوں، ذہنی دباؤ اور تعلقات کے مکمل ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی اسکرین شاٹس اور نجی گفتگو شیئر کرنا نہ صرف اخلاقی مسئلہ ہے بلکہ کئی صورتوں میں سائبر کرائم قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم بھی بن سکتا ہے۔

خاندانی امور کے ماہرین کے مطابق ایسے تنازعات میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں، جنہیں غیر ضروری طور پر عوامی بحث کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

روزنامہ تحریک کے صحافی غلام مرتضی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رجب بٹ کا حالیہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت اب ذاتی زندگی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ جہاں لاکھوں فالوورز طاقت سمجھے جاتے ہیں، وہیں یہی طاقت نجی معاملات کو لمحوں میں تماشہ بنا دیتی ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک یوٹیوبر کی شادی کا نہیں بلکہ ہمارے ڈیجیٹل کلچر کی عکاسی ہے، جہاں خاندانی اختلافات کو ویوز، ہمدردی اور بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رجب بٹ کی جانب سے قانونی کارروائی کا عندیہ دراصل ایک وارننگ ہے کہ سوشل میڈیا اب جذباتی بلیک میلنگ کا محفوظ میدان نہیں رہا۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ایسے کیسز مستقبل میں مثال بن سکتے ہیں۔

یہ واقعہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم انسانیت، پرائیویسی اور خاندانی اقدار کو کھو رہے ہیں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین