لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)بالی ووڈ کی دنیا میں جہاں ہر کوئی فٹنس کے لیے شارٹ کٹس اختیار کرتا ہے، وہاں ایک اداکارہ نے ثابت کیا ہے کہ محنت اور مستقل مزاجی کے بغیر کوئی بھی نتیجہ پائیدار نہیں ہوتا۔ بھومی پیڈنیکر نے حال ہی میں اپنے وزن میں حیران کن کمی کے راز کھولتے ہوئے وہ سب کچھ بتایا جسے لوگ عام طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی دکھایا کہ اصلی کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔
کرن جوہر ہوں، کپل شرما یا کوئی اور اداکار، بالی ووڈ میں وزن کم کرنے کے لیے اب اکثر لوگ ’’اوزیمپک‘‘ دوا کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن ایک اداکارہ ایسی بھی ہیں جو ہمیشہ سب سے الگ رہنا چاہتی ہیں۔
حال ہی میں وزن میں حیران کن کمی کرنے والی بالی ووڈ کی ابھرتی ہوئی اداکارہ بھومی پیڈنیکر نے اس دوا کے استعمال کی سختی سے تردید کی ہے۔سوہا علی خان کے پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے بھومی نے کہا کہ میں نے کسی شارٹ کٹ کے بغیر 40 کلو سے زائد وزن کم کیا ہے۔اداکارہ بھومی نے بتایا کہ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے میں نے سخت محنت کی، مستقل ورزش کی اور متوازن غذا اختیار کی، اور اس پر سختی سے عمل کیا۔
بھومی نے کہا کہ آج کل وزن کم کرنے کے لیے دوا کا استعمال اتنا عام ہوگیا ہے کہ لوگ قدرتی وزن کم کرنے پر یقین ہی نہیں کرتے۔انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ خواتین اکثر مجھ سے پوچھتی ہیں کہ کیا میں نے اوزیمپک دوا لی ہے؟ اور کچھ نے تو یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ نے پسلی نکلوائی ہے؟اداکارہ نے وزن کم کرنے کے مشکل مراحل کے بارے میں بتایا کہ یہ سب زندگی کے سب سے مشکل دور میں ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نومبر 2023 میں شوٹنگ کی تیاری کے دوران میں ڈینگی کا شکار ہوئی اور اسپتال میں داخل ہو گئی، جس سے میرا وزن تقریباً 12 کلو کم ہو گیا۔بھومی نے کہا کہ اس دوران میرے آدھے بال بھی جھڑ گئے۔ میں دیوالی اسپتال کے بستر پر گزاری، جبکہ باہر خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔اداکارہ کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ لوگ برسوں کی محنت کو ایک انجیکشن سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ میں نے کئی سال جم، ڈسپلن اور متوازن کھانے پر گزارے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ بھومی پیڈنیکر نے حال ہی میں اپنے وزن کم کرنے کے عمل کے بارے میں جو وضاحت کی، وہ نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ آج کے فٹنس رجحانات پر ایک اہم روشنی ڈالتی ہے۔ بالی ووڈ میں اکثر لوگ وزن کم کرنے کے لیے شارٹ کٹ اور دواؤں کا سہارا لیتے ہیں، لیکن بھومی نے واضح کیا کہ انہوں نے 40 کلو سے زائد وزن بغیر کسی دوا یا شارٹ کٹ کے کم کیا۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف مستقل ورزش، سخت محنت اور متوازن غذا کے ذریعے ممکن ہوئی، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دیرپا نتائج کے لیے محنت اور ڈسپلن ضروری ہیں۔
مزید یہ کہ بھومی نے اس عمل کے دوران اپنی ذاتی مشکلات بھی شیئر کیں، جیسے نومبر 2023 میں ڈینگی کے باعث اسپتال میں داخل ہونا، وزن میں 12 کلو کمی اور آدھے بالوں کا جھڑ جانا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وزن کم کرنا صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی قوت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ان کے بیان سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا اور لوگوں کی توجہ اکثر فوری اور آسان نتائج پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے محنت کے اصل حقائق نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
بھومی کا کہنا ہے کہ لوگ برسوں کی محنت کو ایک انجیکشن یا کسی شارٹ کٹ سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ اصل کامیابی قدرتی اور مستقل طریقہ کار سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ تجربہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جسمانی تبدیلی کے پیچھے محنت، صبر، اور مستقل مزاجی کا عمل ہوتا ہے، اور حقیقی صحت و فٹنس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ بالآخر بھومی پیڈنیکر کا یہ سفر ایک اہم سبق دیتا ہے کہ صحت مند زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی دیرپا نتائج فراہم کرتی ہیں، اور یہ کہ ہر جسمانی تبدیلی کے پیچھے ایک حقیقی اور انسانی کہانی چھپی ہوتی ہے۔





















