واشنگٹن:خصوصی رپورٹ -غلام مرتضی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ایران میں سرگرم اپوزیشن رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی ایک اہم انسانی مسئلہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے وہ ارب پتی کاروباری ایلون مسک سے بھی مشاورت کریں گے کیونکہ ان کی کمپنیاں اس شعبے میں تکنیکی مہارت رکھتی ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران نے حال ہی میں امریکا سے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے، اور واشنگٹن اس تجویز پر ملاقات کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہا۔
تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائی سمیت دیگر سخت آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ کو فوجی اور سیکیورٹی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، جس میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر حملے، نئی اقتصادی پابندیاں اور محدود فوجی کارروائی جیسے آپشنز بھی امریکی پالیسی سازوں کے سامنے موجود ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ ایران سے متعلق حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے منگل کے روز اپنے سینیئر مشیروں کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے۔
واضح رہے کہ ایران نے اس سے قبل امریکا کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران میں گزشتہ 14 روز سے شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان محض زبانی دھمکی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پریشر کیمپین کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو ایک ساتھ تین محاذوں پر دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے
اندرونی احتجاج
اقتصادی پابندیاں
فوجی آپشن کا خوف
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فوجی کارروائی ہوتی ہے تو وہ محدود، ہدفی اور سیکیورٹی تنصیبات تک محدود ہو سکتی ہے۔
ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کا تازہ بیان ایک انتہائی نازک مرحلے پر سامنے آیا ہے۔ ایران اس وقت شدید معاشی بحران، عوامی احتجاج اور عالمی تنہائی کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی واضح دکھائی دیتی ہے
پہلے دباؤ، پھر مذاکرات اور اگر یہ ناکام ہوں تو طاقت کا استعمال۔
ایران کا جوہری معاہدے پر دوبارہ رابطہ دراصل اس دباؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے، مگر امریکا اس بار کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نظر نہیں آتا جو صرف وقتی ریلیف فراہم کرے۔
دوسری جانب فوجی کارروائی کی صورت میں پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس میں اسرائیل، خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈی براہِ راست متاثر ہوں گی۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جنگ ناگزیر ہے، مگر یہ طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔





















