صدر ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا

وینزویلا امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل تیل فراہم کرے گا،صدر ٹرمپ

واشنگٹن:(خصوصی رپورٹ-غلام مرتضی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تصویر جاری کی ہے جس میں انہوں نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر ظاہر کیا ہے۔

تصویر میں صدر ٹرمپ کی سرکاری تصویر کے ساتھ تحریر درج ہے کہ وہ جنوری 2026 سے وینزویلا کے عبوری صدر ہیں، جبکہ انہیں امریکا کے 45ویں اور 47ویں صدر کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں امریکا نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کی، جس کے بعد صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق عبوری دور میں وینزویلا کے انتظامی معاملات، سیکیورٹی اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی نگرانی امریکا کرے گا۔

اسی دوران وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے بطور عبوری صدر ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان بھی کیا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے خود کو عبوری صدر قرار دینا غیر معمولی اور متنازع اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل تیل فراہم کرے گا، جسے عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا اور اس آمدنی کو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے گا۔

ٹرمپ کی اس پوسٹ کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ اقدام سیاسی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے یا محض ایک علامتی سوشل میڈیا پیغام۔

 ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق کسی خودمختار ملک کے لیے کسی دوسرے ملک کے صدر کا خود کو عبوری سربراہ ظاہر کرنا عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں سے متصادم ہے۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات عملی حکومتی فیصلے کے بجائے سیاسی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور بیانیہ کنٹرول کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق جب تک کسی بین الاقوامی فورم یا وینزویلا کے آئینی اداروں کی توثیق نہ ہو، ایسے دعوے قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔

صدر ٹرمپ کا یہ اقدام دراصل جدید عالمی سیاست میں سوشل میڈیا طاقت کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں ایک تصویر یا پوسٹ بھی سفارتی طوفان کھڑا کر دیتی ہے۔

یہ اعلان قانونی کم اور علامتی زیادہ دکھائی دیتا ہے، جس کا مقصد وینزویلا پر امریکی اثر و رسوخ کو نمایاں کرنا اور اندرونی و بیرونی سیاسی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ امریکا وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور سیاسی مستقبل میں کلیدی کردار چاہتا ہے، اور ٹرمپ کا یہ بیان اسی حکمتِ عملی کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔

تاہم، ایسے بیانات خطے میں عدم استحکام، عالمی کشیدگی اور خودمختاری کے اصولوں پر سنگین سوالات کو جنم دے سکتے ہیں۔

اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی سیاست میں سوشل میڈیا بیانات اور ریاستی فیصلوں کے درمیان فرق مزید دھندلا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین