حضرت عیسیٰؑ کے زمانے سے پہلے کا درخت، آج بھی زیتون پیدا کر رہا ہے

سن 1997 میں یونانی حکومت نے اس درخت کو باضابطہ طور پر قدرتی یادگار قرار دیا۔

یونان میں موجود ایک زیتون کے درخت کو دنیا کے قدیم ترین درختوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو حیرت انگیز طور پر آج بھی پھل دے رہا ہے۔

یہ تاریخی درخت Olive Tree of Vouves کے نام سے جانا جاتا ہے اور یونان کے جزیرہ کریٹ کے گاؤں اینو ووز میں واقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس درخت کی عمر کم از کم 3000 سال ہے، جبکہ بعض نباتاتی اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس کی عمر 4000 سال تک بتاتے ہیں۔

یوں یہ درخت حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے بھی تقریباً ایک سے دو ہزار سال پہلے زمین پر موجود تھا اور آج بھی اپنی حیاتیاتی سرگرمی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

درخت کا تنا نہایت ضخیم اور پیچیدہ ساخت رکھتا ہے، جس کا محیط تقریباً 12.5 میٹر (41 فٹ) اور قطر لگ بھگ 4.6 میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 قدرتی یادگار کا درجہ

سن 1997 میں یونانی حکومت نے اس درخت کو باضابطہ طور پر قدرتی یادگار قرار دیا۔

اسی مقام کے قریب ایک زیتون میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں اس درخت کی تاریخی، زرعی اور ثقافتی اہمیت کو محفوظ کیا گیا ہے۔

یہ درخت نہ صرف اپنی عمر بلکہ مسلسل زیتون پیدا کرنے کی صلاحیت کے باعث بھی سائنسی دنیا میں غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔

 تاریخ اور ثقافت سے جڑا درخت

اس درخت کی شاخیں یونان کی کئی تاریخی اور ثقافتی تقریبات میں استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس کی شاخیں اولمپکس کی علامتی رسومات میں بھی استعمال کی جا چکی ہیں، جہاں زیتون کو امن، طاقت اور تسلسل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 ماہرین کی رائے

نباتاتی ماہرین کے مطابق زیتون کے درخت کی یہ نسل غیر معمولی جینیاتی مضبوطی رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس درخت کا مسلسل زندہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرتی ماحول، درست مٹی اور انسانی مداخلت میں توازن ہو تو نباتات ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ درخت زرعی سائنس، موسمیاتی تحقیق اور پائیدار زراعت کے لیے ایک قدرتی لیبارٹری کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ زیتون کا درخت محض ایک پودا نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا زندہ باب ہے۔

جب سلطنتیں مٹ گئیں، تہذیبیں ختم ہو گئیں، جنگیں ہوئیں اور مذاہب نے جنم لیا — یہ درخت خاموشی سے کھڑا رہا اور زندگی کو جاری رکھا۔

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت انسان سے کہیں زیادہ صابر، مضبوط اور طویل المدت منصوبہ ساز ہے۔

آج جب دنیا ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے، یہ درخت ہمیں سکھاتا ہے کہ بقا کا راز طاقت میں نہیں بلکہ توازن اور تسلسل میں ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین