ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، مشرقِ وسطیٰ ہائی الرٹ پر

تمام دستیاب شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایران پر اچانک امریکی حملہ ہو سکتا ہے۔

لاہور (خصوصی رپورٹ -غلام مرتضی)مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات نے پورے خطے کو ہائی الرٹ پر لا کھڑا کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور مغربی عسکری ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف محدود یا وسیع امریکی حملے کا امکان مسترد نہیں کیا جا رہا۔

برطانوی خبر ایجنسی نے مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تمام دستیاب شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایران پر اچانک امریکی حملہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع اقدامات امریکی فوجی حکمتِ عملی کا بنیادی جز ہوتے ہیں، اسی لیے موجودہ صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا جا رہا ہے تاکہ حریف کو پیشگی تیاری کا موقع نہ ملے۔

اسی تناظر میں سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران میں موجود اپنا مکمل سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے، جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ممکنہ فوجی کارروائی سے براہِ راست جوڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump ایران کو مظاہرین پر تشدد اور پھانسیوں کے معاملے پر پہلے ہی سخت نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں حالیہ پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال میں حالیہ دنوں میں کمی آئی ہے۔

ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ تہران سے مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات میں کمی آئی ہے۔

امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی خطرے کی فضا برقرار ہے، اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی ایئر بیسز سے فوجیوں اور غیر ضروری عملے کا انخلا شروع کر دیا گیا ہے۔

ادھر ایران نے سخت موقف اپناتے ہوئے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔

 ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے غیر واضح بیانات اور بیک وقت سفارتی انخلا اس بات کی علامت ہیں کہ واشنگٹن دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا یا تو محدود اسٹرائیک کے ذریعے پیغام دینا چاہتا ہے یا ایران کو داخلی طور پر مزید کمزور کرنے کے لیے نفسیاتی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر حملہ ہوا تو یہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا خلیجی خطہ اس کے اثرات کی زد میں آ سکتا ہے۔

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی محض ایک فوجی آپشن کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، پیغام اور نفسیاتی جنگ کا مجموعہ ہے۔

امریکا جان بوجھ کر ابہام پیدا کر رہا ہے تاکہ ایران کو مستقل دباؤ میں رکھا جا سکے، جبکہ سفارتی انخلا اور فوجی نقل و حرکت اس دباؤ کو عملی شکل دے رہی ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جیسے ہی ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں کمی آئی، حملے کی خبریں بھی وقتی طور پر پیچھے چلی گئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی حقوق کا بیانیہ بھی عسکری فیصلوں میں بطور دباؤ استعمال ہو رہا ہے۔

اگر امریکا نے حملہ کیا تو یہ ایک محدود کارروائی ہو سکتی ہے، مگر ایران کا ممکنہ ردعمل اسے خطے کی ایک بڑی جنگ میں تبدیل کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر گہرے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین