گل پلازہ آتشزدگی؛ 36 گھنٹوں بعد آگ پر قابو، عمارت تباہ حال، ہلاکتیں بڑھ گئیں

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت سے خطرناک آوازیں آنے کے بعد عقبی حصے میں فائر فائٹنگ روک دی گئی

کراچی(خصوصی رپورٹ – غلام مرتضی)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ پر بالآخر 36 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کے دو حصے منہدم ہو چکے ہیں اور سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ رات سے اب تک ایک بچے سمیت پانچ افراد کے جسمانی اعضا ملبے سے برآمد کیے گئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ ناقابلِ شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون جبکہ باقی تمام مرد شامل ہیں۔ ان کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران مزید لاشیں ملنے کا خدشہ موجود ہے اور ملبہ ہٹانے کا عمل احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم عمارت کی حالت نہایت خستہ ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت سے خطرناک آوازیں آنے کے بعد عقبی حصے میں فائر فائٹنگ روک دی گئی اور اب صرف ملبہ ہٹانے کا کام کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے دوران دو فائر فائٹرز زخمی ہوئے جنہیں پی این ایس شفا منتقل کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 30 افراد زخمی ہوئے جن میں سے بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں اور تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق آگ لگنے کے وقت 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہو سکتے تھے۔ پولیس کے مطابق اب تک 59 افراد کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے موبائل ڈیٹا اور لوکیشنز کی جانچ جاری ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ 55 سے زائد لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس اور ریسکیو اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور جائے حادثہ سے دور رہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ آگ ہفتے کی رات 10 بج کر 27 منٹ پر رپورٹ ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور متعدد واٹر باؤزرز کو حرکت میں لایا گیا۔ ان کے مطابق عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی اور آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔

سی پی ایل سی کی جانب سے سول اسپتال میں ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے جہاں لاپتا افراد کے لواحقین ڈی این اے کے ذریعے شناخت کے لیے معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 40 سے زائد خاندانوں نے رجسٹریشن کروا لی ہے۔

ریسکیو، فائر بریگیڈ، کے ایم سی، سندھ رینجرز، واٹر کارپوریشن اور دیگر ادارے امدادی سرگرمیوں میں شریک رہے، جبکہ گورنر سندھ، میئر کراچی، وفاقی و صوبائی وزرا اور سیاسی قیادت نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حکام کے مطابق ملبہ مکمل طور پر ہٹنے کے بعد ہی اصل نقصانات اور لاپتا افراد کی حتمی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

ماہرین کی رائے

فائر سیفٹی ماہرین کے مطابق پرانی کمرشل عمارتوں میں الیکٹریکل شارٹ سرکٹ، آتش گیر مواد کا ذخیرہ، ناکافی فائر الارم اور ایمرجنسی راستوں کی کمی ایسے سانحات کی بڑی وجوہات بنتی ہیں۔
ماہرین نے زور دیا کہ باقاعدہ فائر آڈٹ، ایمرجنسی ڈرلز، اسنارکل رسائی، اسپرنکلر سسٹم اور وینٹی لیشن کو لازمی بنایا جائے تاکہ نقصانات کم ہوں۔

گل پلازہ سانحہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہمارے کمرشل مراکز فائر سیفٹی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔ دہائیوں پرانی عمارتیں جدید کاروباری دباؤ کے ساتھ استعمال ہو رہی ہیں مگر حفاظتی اپ گریڈ نظر انداز ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامی ناکامیوں، کمزور نگرانی اور عدم احتساب کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانونی اصلاحات کے ساتھ عملی نفاذ ہو، ورنہ ایسے سانحات بار بار دہرائے جاتے رہیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ شہر کی تمام کمرشل عمارتوں کا ہنگامی فائر آڈٹ ہو اور غیر محفوظ ڈھانچوں کے لیے سخت فیصلے کیے جائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین