لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)آج کے دور میں بچوں کو پرسکون رکھنے کا سب سے عام اور آسان طریقہ موبائل یا ٹی وی کی اسکرین پر چھوڑ دینا بن گیا ہے۔ بظاہر یہ وقتی سکون فراہم کرتا ہے،بچہ خاموش رہتا ہے، ضد کم ہو جاتی ہے اور والدین تھوڑی دیر سکون محسوس کرتے ہیںلیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سادہ سا عمل دراصل بچوں کی دماغی، جذباتی اور جسمانی نشوونما پر خاموش مگر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ ابتدائی برس، جب بچے سیکھتے، بولتے اور دوسروں کے ساتھ جڑتے ہیں، اسکرین کا زیادہ استعمال ان کی قدرتی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے اور دیرپا عادات جنم دیتا ہے جو سالوں تک ساتھ رہ سکتی ہیں۔
کیا والدین اپنے بچوں سے دشمنی کر سکتے ہیں؟ شاید دانستہ نہیں، لیکن آج کل کچھ والدین کا ایسا طریقہ کار بچوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہو سکتا ہے۔
آج کے گھروں میں بچے کو خاموش رکھنے یا آسانی سے کھانا کھلانے کے لیے موبائل فون دینا عام ہو گیا ہے۔ مگر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وقتی سہولت بچوں کے لیے دیرپا نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
زندگی کے ابتدائی سال، جب بچے کا دماغ، زبان اور جذبات تیزی سے بڑھتے ہیں، اگر وہ زیادہ وقت موبائل یا ٹی وی اسکرین کے سامنے گزاریں، تو اس کے اثرات برسوں تک رہ سکتے ہیں۔
ظاہر دیکھنے میں اسکرین بچے کو پرسکون کر دیتی ہے، وہ ضد نہیں کرتا اور خاموشی سے کھاتا ہے، جس سے والدین کو سکون ملتا ہے۔ لیکن یہ سکون بچے کی قدرتی سیکھنے کی صلاحیت کی قیمت پر آتا ہے۔
کھانے کے دوران موبائل دینے سے بچے کی توجہ کھانے، اس کے ذائقے اور جسمانی اشاروں سے ہٹ جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ اپنی بھوک محسوس نہیں کر پاتا اور کھانے کے ساتھ صحت مند تعلق نہیں بنا پاتا۔
ماہرین کے مطابق اسکرین کی عادت سب سے خطرناک اس لیے ہے کہ اس کے نقصانات فوراً نظر نہیں آتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بچے کی بولنے کی رفتار، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، نیند اور جذبات متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اکثر والدین جب تشویش محسوس کرتے ہیں، تب تک یہ عادت مضبوط ہو چکی ہوتی ہے۔ کچھ بچوں میں آنکھوں کی کمزوری، وزن بڑھنا یا بے چینی جیسی علامات بھی دیکھی جا رہی ہیں۔
ابتدائی دو برس بچے کی پوری زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس وقت دماغ میں وہ کنکشن بنتے ہیں جو سیکھنے، رویے اور جذباتی قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی زبان سیکھنے اور دوسروں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔ بے ترتیب نیند اور کھانے کے معمولات بھی ذہنی نشوونما میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ والدین اکثر اسکرین کا سہارا مجبوری میں لیتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں بچوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری عورت پر ہوتی ہے، چاہے وہ کام بھی کرتی ہو۔ مصروفیت اور مدد کی کمی کی وجہ سے اسکرین ایک فوری حل بن جاتی ہے تاکہ والدین دیگر کام نمٹا سکیں یا تھکن کم ہو۔
گھریلو تجربات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جب بزرگ گھر میں موجود ہوتے تھے، بچے چہل قدمی، عبادت اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ مگر بزرگوں کے نہ ہونے سے بچوں کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہو گیا اور اسکرین آہستہ آہستہ روزمرہ کا حصہ بن گئی۔
جو والدین بچوں کو دل بہلانے کے لیے ویڈیوز کا سہارا لیتے ہیں، ان کے مطابق یہ عمل بعد میں بچے میں ضد اور بے چینی کم کرنے کا مستقل طریقہ بن جاتا ہے، جس کے منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ مسلسل اسکرین دیکھنے سے بچوں کی نیند خراب ہوتی ہے، جس کا اثر جسمانی نشوونما اور بھوک سے جڑے ہارمونز پر بھی پڑتا ہے۔ کھانے کے دوران اسکرین کا استعمال مستقبل میں غیر صحت مند غذائی عادات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ہر وقت تفریح کی ضرورت نہیں، بلکہ والدین کی توجہ، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی سب سے زیادہ اہم ہیں۔
اگر اسکرین پہلے ہی بچے کی روزمرہ کی روٹین کا حصہ بن گئی ہو، تو ماہرین بتدریج اس کا وقت کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہر ہفتے تھوڑا تھوڑا وقت کم کرکے اس کی جگہ بات چیت، کھیل یا مشترکہ سرگرمیاں شامل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے "بورڈم کٹ” بنانے کی بھی تجویز دی جاتی ہے، جس میں رنگ، کاغذ، کھلونے، پہیلیاں اور موسیقی کے سادہ آلات شامل ہوں، تاکہ بچہ اسکرین کے بغیر بھی مصروف رہ سکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جب اسکرین کو والدین کی توجہ، گفتگو اور جذباتی تعلق کا متبادل بنا دیا جائے، تو یہ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت کے لیے خطرناک ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی اسکرین والدین کی محبت اور ساتھ گزارے گئے حقیقی وقت کی کمی نہیں پوری کر سکتی۔





















