امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت استعمال نہیں کرے گا، ٹرمپ

گرین لینڈ کے معاملے پر ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی فریم ورک طے پا گیا ہے۔ٹرمپ

ڈیووس / واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ – غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد گرین لینڈ کے معاملے پر ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی فریم ورک طے پا گیا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم، ڈیووس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پہلی بار واضح طور پر اعلان کیا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے کو سفارتی اور سیاسی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد یورپی ممالک پر عائد کیے جانے والے ممکنہ امریکی ٹیرف بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے نافذ ہونے والے یہ ٹیرف اب لاگو نہیں ہوں گے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے ڈنمارک سے گرین لینڈ کے معاملے پر فوری اور سنجیدہ مذاکرات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا اس مسئلے کو طویل عرصے تک لٹکانا نہیں چاہتا اور ایک باقاعدہ معاہدے کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی بیانات نے یورپ اور امریکا کے تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی پیدا کی ہے۔

ڈنمارک کی حکومت نے صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ امریکی صدر اب بھی گرین لینڈ کے حصول کے اپنے بنیادی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی عالمی نظام کو کمزور کر سکتی ہے اور اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے طاقت کے استعمال سے دستبرداری ایک سفارتی کامیابی ضرور ہے، تاہم گرین لینڈ جیسے حساس خطے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی عالمی سیاست میں نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا تجارتی معاہدہ معطل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ اس معاملے کو صرف معاشی نہیں بلکہ خودمختاری کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے۔

صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق صدر ٹرمپ کا لہجہ بظاہر نرم ہوا ہے، مگر پالیسی کا مرکزی ہدف بدستور وہی ہے۔ طاقت کے استعمال سے انکار دراصل یورپ اور نیٹو اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ایک حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے تجارتی مذاکرات روکنا ایک واضح پیغام ہے کہ یورپ اس معاملے پر دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اگر امریکا واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کی خودمختاری کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی، بصورت دیگر یہ معاملہ مستقبل میں ایک نئے سفارتی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین