ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تنازع،بنگلادیش کے انکار پر پاکستان کے بائیکاٹ کا خدشہ

کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ اپنا حتمی جواب آئی سی سی کو ارسال کرے گا۔

اسپورٹس ڈیسک:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شرکت کے معاملے پر آج کا دن بنگلادیش کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اسی فیصلے سے ایونٹ کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر بنگلادیش کرکٹ ٹیم بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے سے انکار کرتی ہے تو پاکستان کی جانب سے بھی ایونٹ کے بائیکاٹ کا امکان موجود ہے، جس سے عالمی کرکٹ کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کے مشیرِ کھیل آصف نذرل آج پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے قومی کھلاڑیوں سے ایک اہم ملاقات کریں گے، جس میں انہیں بنگلادیش حکومت کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق بنگلادیش کے بیشتر کھلاڑی ورلڈکپ میں شرکت کے حق میں ہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات اور حکومتی تحفظات حتمی فیصلے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ اپنا حتمی جواب آئی سی سی کو ارسال کرے گا۔

ذرائع کے مطابق اگر بنگلادیش بھارت جانے سے انکار کرتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ورلڈکپ کے بائیکاٹ کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے، جس سے ایونٹ کی ساکھ اور شیڈول دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے شیڈول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے انکار کرتے ہوئے بنگلادیش کو دو ٹوک مؤقف دیا ہے کہ یا تو بھارت میں کھیلیں یا پھر ایونٹ سے دستبردار ہو جائیں۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بنگلادیش اور پاکستان جیسے بڑے ایشیائی ممالک ورلڈکپ سے باہر ہوتے ہیں تو نہ صرف ایونٹ کی مسابقتی حیثیت متاثر ہوگی بلکہ آئی سی سی کی غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ ماہرین کے مطابق سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرنا عالمی کرکٹ کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ محض ایک کرکٹ کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اب یہ فیصلہ سفارتی، سیکیورٹی اور علاقائی سیاست سے جڑ چکا ہے۔ بنگلادیش اگر بھارت میں کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پاکستان کا ممکنہ بائیکاٹ ایک فطری ردِعمل ہوگا، کیونکہ ہائبرڈ ماڈل کے باوجود ایشیائی ٹیموں کے ساتھ مختلف رویہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا سخت مؤقف وقتی طور پر نظم و ضبط دکھا سکتا ہے، مگر طویل المدت میں یہ پالیسی عالمی کرکٹ کو تقسیم کر سکتی ہے۔ اگر ایشیائی بلاک متحد ہو گیا تو آئی سی سی کو اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین