سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ شِنگلز کی ویکسین نہ صرف وائرل انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ بوڑھے افراد میں عمر بڑھنے کی رفتار کو بھی سست کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے انجام دی، جس میں 3800 سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق وہ افراد جنہیں شِنگلز ویکسین لگائی گئی، ان میں حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار اُن افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھی گئی جنہوں نے یہ ویکسین نہیں لگوائی تھی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویکسین لگوانے والے افراد میں جسمانی سوزش (Inflammation) کی سطح کم تھی، جو بڑھاپے، کمزوری اور مختلف دائمی بیماریوں سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ مصنفہ جنگ کی کِم کے مطابق شِنگلز ویکسین پس منظر میں ہونے والی دائمی سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس عمل کے ذریعے وائرس کے دوبارہ متحرک ہونے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ویکسین صحت مند انداز میں عمر بڑھنے کے عمل کو سہارا دے سکتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں “Healthy Aging” کہا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ تحقیق کے نتائج حالیہ مطالعات کی تائید کرتے ہیں جن میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شِنگلز اور فلو جیسی ویکسینز ڈیمنشیا اور دیگر اعصابی تنزلی کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے سے بھی جڑی ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق بڑھاپے میں اصل مسئلہ صرف عمر کا بڑھنا نہیں بلکہ جسم میں جاری خاموش سوزش ہے، جو دل، دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویکسینز اس سوزش کو کم کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں تو یہ بڑھاپے کی سائنس میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں مزید تحقیقات سے ان نتائج کی تصدیق ہو گئی تو ویکسینز کو محض بیماری سے بچاؤ کے بجائے صحت مند عمر رسیدگی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق صحت کے تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اب تک ویکسین کو صرف بیماری سے بچاؤ تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انسانی جسم کے اندرونی نظام پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی عمر کی آبادی کے تناظر میں ایسی دریافتیں نہایت اہم ہیں۔ اگر ایک عام ویکسین بڑھاپے کے منفی اثرات کو کم کر سکتی ہے تو یہ صحت عامہ کے نظام پر بوجھ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق اگرچہ یہ تحقیق حوصلہ افزا ہے، مگر اس بنیاد پر فوری دعوے کرنے کے بجائے مزید طویل المدتی اور متنوع آبادیوں پر تحقیق ناگزیر ہے۔





















