کراچی(خصوصی رپورٹ :رمیض حسین)وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اسے پاکستان کا معاشی دارالحکومت قرار دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں منظم انداز میں نسل کشی کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ کھلی جمہوری دہشت گردی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کو وفاق کے زیرِ انتظام لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی 18 برس سے سندھ میں حکمرانی کر رہی ہے، لیکن جب بھی سانحات پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو جواب میں بلدیہ فیکٹری کی آگ کا حوالہ دے دیا جاتا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج کی ایم کیو ایم وہ نہیں ہے، یہ وہ دور تھا جب انہی حکمرانوں کے نمائندے ایم کیو ایم کے مرکز آکر گھٹنے ٹیکتے تھے۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب روزانہ 100 سے زائد افراد قتل ہو رہے تھے، اور آج بھی کراچی مسلسل انسانی المیوں کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر کتنے اور لوگ آگ میں جل کر مریں گے؟ کتنے معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان دیں گے؟ ہماری داد رسی کب ہوگی اور ہم اپنے لوگوں کو کیا تسلی دیں؟
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کبھی ایسا شہر نہیں تھا۔ جب سندھ حکومت سے شکایت کی جاتی ہے تو جواب میں بھتا خوری اور بلدیہ فیکٹری کا حوالہ دے کر ذمہ داری سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہی ہر ناکامی کا جواز ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں کوٹا سسٹم کے ذریعے شہری آبادی کو دیوار سے لگایا گیا اور اسے نسل کشی کی شکل دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 18 سالہ حکمرانی کے باوجود صوبائی حکومت صرف سانحات کے بعد جاگتی ہے۔ ایم کیو ایم کے میئر کے دور میں بھی آتشزدگی کے واقعات ہوئے، بولٹن مارکیٹ میں لگنے والی آگ آج بھی سب کو یاد ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اصلاحات کیوں نہیں ہوئیں؟
وفاقی وزیر نے وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر آخر کتنی قربانیاں دے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہنے کے باوجود کراچی کے لیے کچھ نہیں کر پاتے کیونکہ پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے، جبکہ حکومت چلانے کے لیے اسی جماعت کی ضرورت ہے اور جانیں کراچی کے شہری دے رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہمیں کم از کم یہ تو بتا دیا جائے کہ ہمارے شہر میں مزید کتنے لوگ مریں گے تاکہ ہمیں صبر آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور کراچی میں آج بھی بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج وہ ریاست، اس کے اداروں اور خود وزیراعظم کو براہِ راست مخاطب کر کے بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ وزیراعظم بہت سی باتیں چاہتے ہوئے بھی کراچی کے لیے نہیں کر پاتے، کیونکہ ایسا کرنے سے پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے اور ہم سب اس سیاسی مجبوری کے اسیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں نہایت عاجزی کے ساتھ ریاست اور اسے چلانے والوں سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آخر اس حکومت کو قائم رکھنے کے لیے ریاست اور کتنی قربانیاں دے؟
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے بھی پیپلز پارٹی کی ضرورت تھی، تحریکِ عدم اعتماد میں بھی اسی جماعت کا کردار فیصلہ کن رہا، اور آج اس حکومت کے استحکام کے لیے بھی پیپلز پارٹی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار قربانی کا بکرا ہم بنتے ہیں، مر ہم رہے ہیں، اور آہستہ آہستہ پورا کراچی دم توڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے سخت الفاظ میں کہا کہ آپ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کراچی کا خون بہتا ہے تو اس کی نمی پورے پاکستان تک محسوس ہوتی ہے، مگر افسوس کہ یہاں لوگ مر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس شہر پر مسلط کی گئی جمہوری دہشت گردی کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ ریاست چلانے والوں کے سامنے دو ٹوک بات رکھنا چاہتے ہیں: اب بہت ہو چکا، یہ نظام خود بخود درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ اور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی تحویل میں لے کر فیڈرل ٹیریٹری قرار دیا جائے، اور ذوالفقار علی بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق اسے پاکستان کا معاشی دارالحکومت بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بنانے ہیں تو ضرور بنائیں، مگر آج اسی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو باضابطہ طور پر ملک کا معاشی حب تسلیم کیا جائے اور اسے وفاق کے براہِ راست کنٹرول میں دیا جائے، تاکہ یہ شہر مزید تباہی سے بچ سکے۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا کراچی کو وفاق کے زیرِ انتظام لانے اور اسے پاکستان کا معاشی دارالحکومت بنانے کا مطالبہ محض ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ یہ اس گہرے سیاسی، انتظامی اور آئینی بحران کی علامت ہے جس کا سامنا کراچی دہائیوں سے کر رہا ہے۔ یہ مطالبہ دراصل اس سوال کو دوبارہ زندہ کرتا ہے کہ کیا پاکستان کا سب سے بڑا شہر، جو قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے، آج بھی صوبائی سیاست کی نذر ہونا چاہیے؟
کراچی کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اسے ہمیشہ “ریونیو مشین” سمجھا گیا، مگر کبھی اسے وہ توجہ، اختیارات اور وسائل نہ مل سکے جو کسی بھی عالمی معاشی شہر کا حق ہوتے ہیں۔ بندرگاہیں، صنعتی زونز، اسٹاک ایکسچینج، بینکنگ سیکٹر، اور لاکھوں محنت کش—سب کچھ کراچی میں ہے، مگر فیصلہ سازی کہیں اور ہوتی ہے۔ یہی تضاد مصطفیٰ کمال کے بیانیے کی بنیاد بنتا ہے۔
مصطفیٰ کمال کی تقریر کا سب سے اہم نکتہ وہ سیاسی مجبوری ہے جس کا اعتراف وہ کھلے عام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، چاہے عمران خان کی حکومت ہو یا موجودہ سیٹ اپ، پیپلز پارٹی ہر دور میں وفاقی حکومتوں کے لیے ناگزیر اتحادی رہی ہے۔ اس ناگزیریت کی قیمت کراچی ادا کرتا آیا ہے۔
یہ وہ نکتہ ہے جہاں کراچی کا مسئلہ محض شہری انتظامیہ کا نہیں رہتا بلکہ خالصتاً ریاستی مسئلہ بن جاتا ہے۔ جب کسی ایک صوبے کی حکمران جماعت وفاقی سیاست میں “کنگ میکر” بن جائے تو اس کے زیرِ انتظام علاقوں میں احتساب کمزور پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً، ناقص گورننس، کرپشن، اور انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے، کیونکہ حکومت کو بچانا ترجیح بن جاتا ہے اور شہری جانیں ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال کی جانب سے استعمال کی گئی اصطلاح “جمہوری دہشت گردی” بظاہر سخت لگتی ہے، مگر اگر زمینی حقائق دیکھے جائیں تو یہ محض نعرہ نہیں رہتی۔ جب منتخب حکومتیں مسلسل ناکامی کے باوجود اقتدار میں رہیں، جب عوامی مسائل دہائیوں تک حل نہ ہوں، جب حادثات معمول بن جائیں، اور جب ہر سانحے پر ماضی کا حوالہ دے کر جان چھڑا لی جائے—تو یہ جمہوریت کا وہ چہرہ ہوتا ہے جو عوام کے لیے دہشت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
کراچی میں آگ لگنے کے واقعات، عمارتوں کا گرنا، گٹروں میں بچوں کی اموات، پانی اور بجلی کے بحران—یہ سب قدرتی آفات نہیں بلکہ گورننس کی ناکامی کی واضح نشانیاں ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا مطالبہ محض سیاسی نہیں بلکہ آئینی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ آرٹیکل 148 اور 149 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ اگر کسی صوبے کی کارکردگی قومی مفاد، امن عامہ یا بنیادی حقوق کے لیے خطرہ بن جائے تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے۔
یہی وہ آئینی راستہ ہے جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ صوبے بنانے یا آئینی ترمیم کا انتظار کیے بغیر، موجودہ آئین کے اندر رہتے ہوئے کراچی کو وفاقی تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بڑے معاشی شہر خصوصی انتظامی حیثیت رکھتے ہیں—واشنگٹن ڈی سی، بیجنگ، برلن، اور دبئی اس کی مثالیں ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا یہ جملہ کہ “کراچی کا خون بہہ رہا ہے تو پورا پاکستان رس رہا ہے” محض جذباتی نہیں بلکہ معاشی حقیقت ہے۔ اگر کراچی کی صنعت بند ہو، بندرگاہیں سست پڑ جائیں، اور سرمایہ کار خوفزدہ ہوں، تو اس کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔ زرمبادلہ، ٹیکس وصولی، برآمدات—سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی کا مسئلہ صرف کراچی والوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے صوبائی سیاست کے ترازو میں تولا جاتا رہا۔
مصطفیٰ کمال کا اصل سوال یہی ہے کہ آخر ریاست کب یہ تسلیم کرے گی کہ موجودہ ماڈل ناکام ہو چکا ہے؟ کتنے مزید سانحات، کتنی مزید لاشیں، اور کتنی مزید قربانیاں درکار ہیں تاکہ ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا جا سکے؟
اگر ریاست واقعی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم دیکھنا چاہتی ہے تو اسے کراچی کو محض ایک شہر نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ وفاقی تحویل، بااختیار میئر، شفاف فنڈنگ، اور براہِ راست جوابدہی—یہ وہ اقدامات ہیں جو کراچی کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔





















