لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ڈیجیٹل دور میں جہاں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، وہیں ان کی سلامتی ایک سنجیدہ عالمی مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اسکرین کے پیچھے چھپی دنیا میں بچوں کا ذاتی ڈیٹا، ذہنی سکون اور اخلاقی تحفظ مسلسل خطرات کی زد میں ہے۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات نے بچوں کی آن لائن زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ایسا قانون نافذ کیا ہے جو والدین، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سب کے لیے واضح حدود اور ذمہ داریاں متعین کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا کے نام سے نیا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا والدین کی واضح، تحریری اور قابل تصدیق اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ والدین کو کسی بھی وقت اور بغیر وجہ بتائے یہ اجازت واپس لینے کا آسان طریقہ فراہم کریں۔
اس قانون کے مطابق بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو کمرشل مقاصد یا ہدفی اشتہارات کے لیے استعمال کرنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
مزید یہ کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کمرشل گیمز، جوا اور بیٹنگ سے متعلق تمام پلیٹ فارمز تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
نئے قانون کے تحت اب والدین اور سرپرستوں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور مناسب انتظام کریں۔
اس قانون کے نفاذ کے بعد بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت محض اخلاقی یا تربیتی معاملہ نہیں رہی بلکہ اسے باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
قانون کے مطابق نقصان دہ آن لائن مواد، حد سے زیادہ ڈیجیٹل مصروفیت اور بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
اس قانون میں صرف والدین ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں پر بھی واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اگر والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی، کنٹرول یا حفاظتی انتظامات نہ کریں تو انہیں ایک ملین درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اسے بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے مختصر وقفہ ذہنی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت
یہ قانون صرف متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ تمام غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، گیمنگ ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن سروسز بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
ان پلیٹ فارمز کے لیے بچوں کی عمر کی تصدیق، مواد کی فلٹرنگ، والدین کے کنٹرول کے نظام اور بچوں کو ہدف بنانے والے اشتہارات پر سخت پابندیوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
والدین کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے فحش یا نقصان دہ مواد نظر آئے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
یاد رہے کہ امارات میں 8 سے 12 سال کی عمر کے 72 فیصد بچے روزانہ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جبکہ صرف 43 فیصد والدین باقاعدگی سے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جدید دنیا میں بچوں کو لاحق خطرات صرف گلی محلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اسمارٹ فون کی اسکرین کے اندر بھی پھیل چکے ہیں۔ یہ قانون اس بدلتی ہوئی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جہاں علم اور تفریح کا ذریعہ ہیں، وہیں یہ بچوں کے ذہن، نجی زندگی اور مستقبل پر گہرے اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔ ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور قانونی فریضہ ہے۔
یہ قانون والدین کو محض نگران نہیں بلکہ ذمہ دار فریق کے طور پر سامنے لاتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جوابدہ بناتا ہے۔ بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور اشتہاری استحصال پر پابندیاں اس بات کی علامت ہیں کہ اب منافع کو انسانی اقدار پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ خاص طور پر غیر ملکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی قانون کے دائرے میں لانا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ سرحدوں کا بہانہ بنا کر بچوں کے حقوق سے انحراف نہ کر سکے۔
اصل اہمیت اس قانون کی اس سوچ میں پوشیدہ ہے جو بچوں کی ڈیجیٹل زندگی کو سنجیدگی سے دیکھنے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔ جب ریاست، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک ہی سمت میں ذمہ داری نبھائیں تو ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون نہ صرف موجودہ نسل کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک ایسا معیار بھی قائم کرتا ہے جسے دیگر ممالک کے لیے مثال بننا چاہیے۔





















