وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی سے درس لینے کے محتاج نہیں ہیں۔
سلامتی اور استحکام پر دوٹوک مؤقف
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی موجودگی میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ان کے مطابق ایوانوں کے اندر بیٹھ کر سخت بیانات دینا آسان ہوتا ہے، مگر عملی فیصلے کرنا جرات کا کام ہے۔
فلسطین اور عالمی مؤقف پر وضاحت
انہوں نے کہا کہ جس عمل پر فلسطینی عوام نے خوشی کا اظہار کیا، اسی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ غزہ کے حالات پر قوم کے دل زخمی ہیں، مگر پاکستان نے ہمیشہ اصولی اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابیاں
وفاقی وزیر کے مطابق آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر سینٹر اسٹیج ملا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے مسلم ممالک کو امن کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع ملا، جو پاکستان کی فعال سفارتکاری کا ثبوت ہے۔
اسرائیل پر اصولی مؤقف برقرار
احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل ایک سفاک ملک ہے اور پاکستان کے اس اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان نے اپنی آزادی اور خودمختاری کی ایک مضبوط مثال قائم کی ہے۔
ایٹمی پروگرام اور جرات مندانہ فیصلے
انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت امریکا کی جانب سے پانچ فون کالز آئیں، مگر پاکستان نے عالمی دباؤ کے باوجود جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
سخت پیغام
احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی پاکستان کو میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا، اور اگر کسی نے ایسا کیا تو قوم اس کا بھرپور جواب دینا جانتی ہے۔
بورڈ آف پیس اور اسلامی ممالک
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل نہ ہوتا تو کہا جاتا کہ پاکستان تنہا ہو گیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر امن کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ماہرین کے مطابق احسن اقبال کا بیان حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جس میں قومی سلامتی، خودمختاری اور سفارتی توازن کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش علاقائی اور عالمی چیلنجز کے تناظر میں سخت اور واضح پیغام دینا حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
احسن اقبال کی تقریر محض سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے۔ ایک طرف اندرونی سیاسی تنقید کا جواب دیا گیا، تو دوسری جانب عالمی برادری کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور اصولی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ غزہ کے معاملے پر پاکستان کا متوازن کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد جذبات کے بجائے سفارتکاری اور قومی مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔





















