بیوی سمیت زیر کفالت افرادکو گالی دینا ،جذباتی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا جرم قرار

اس جرم میں ملوث شخص کو تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی

لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی اور بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق ایک نہایت اہم قانون منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر دیگر افراد کے ساتھ گھر میں رکھناقابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 کی منظوری دی گئی، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔

یہ قانون صرف بیوی اور بچوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار گھر میں رہنے والے بزرگ افراد، معذور افراد، لے پالک بچے، ٹرانس جینڈر اور ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے والے تمام افراد تک پھیلا ہوا ہے۔

ایکٹ کے تحت بیوی، بچوں یا گھر کے دیگر افراد کو گالیاں دینا، انہیں جذباتی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔ اس جرم میں ملوث شخص کو تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی، بچوں، بزرگوں یا معذور افراد کا تعاقب کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔ اسی طرح بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر دیگر افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، خاندان کے افراد کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا یا ان کی عزتِ نفس مجروح کرنا بھی جرم کے زمرے میں آئے گا۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 کے مطابق گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا، بلاجواز الزام لگانا، یا بیوی، بچوں اور دیگر زیرِ کفالت افراد کی دیکھ بھال سے غفلت برتنا بھی قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 کے تحت جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال کو بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید کی سزا دی جا سکے گی۔

قانون میں عدالتوں کو گھریلو تشدد سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس کے مطابق عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات دن کے اندر سماعت شروع کی جائے گی اور کیس کا فیصلہ نوے دن کے اندر سنایا جائے گا۔

ایکٹ کے تحت متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں قیام کا قانونی حق حاصل ہوگا۔ بصورت دیگر جوابدہ فریق متاثرہ شخص کے لیے متبادل رہائش فراہم کرے گا یا شیلٹر ہوم مہیا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تشدد کے مرتکب شخص کو متاثرہ فرد سے دور رہنے کے احکامات بھی جاری کیے جا سکیں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے قانون میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ تشدد کرنے والے شخص کو نگرانی کے لیے جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت دی جا سکے گی۔

قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو یا اسے جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچے۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح گالی دینا اور جذباتی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا بھی قانوناً جرم ہوگا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والا ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 گھریلو تشدد کے خلاف پاکستان میں ایک سنگِ میل قانون تصور کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد گھریلو سطح پر تشدد، ہراسانی اور استحصال کے شکار افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ان کے حقوق کو مؤثر طریقے سے تحفظ دینا ہے۔

1. قانون کا دائرہ کار

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 کا اطلاق صرف بیوی اور بچوں تک محدود نہیں بلکہ یہ گھر میں رہنے والے تمام افراد پر محیط ہے، جن میں بزرگ، معذور، لے پالک بچے، ٹرانس جینڈر افراد اور مشترکہ رہائش گاہ میں مقیم دیگر افراد شامل ہیں۔ قانون کے مطابق گھریلو تشدد صرف جسمانی مظالم تک محدود نہیں بلکہ اس میں جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی استحصال بھی شامل ہیں۔

2. قابلِ سزا جرائم

قانون میں متعدد ایسے اعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے جو ماضی میں گھریلو تشدد کے زمرے میں کم توجہ کے حامل تھے:
بیوی یا دیگر اہلِ خانہ کو گھورنا، دھمکیاں دینا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا
جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینا یا کسی پر الزام لگانا
گالی دینا یا جذباتی/نفسیاتی ہراسانی
بیوی یا دیگر اہلِ خانہ کی پرائیویسی یا عزتِ نفس مجروح کرنا
معاشی استحصال، جیسے گھر کے وسائل پر غیر منصفانہ قبضہ یا مالی دباؤ
ان جرائم پر کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید کی سزا یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا بھی ممکن ہے۔

3. عدالتوں کی ذمہ داریاں اور فوری کارروائی

قانون میں عدالتوں کو بھی واضح طور پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ شکایات پر فوری کارروائی کریں۔ درخواست دائر ہونے کے سات دن کے اندر سماعت شروع کی جائے گی اور کیس کا فیصلہ نوے دن کے اندر سنایا جائے گا۔ اس شق کا مقصد متاثرہ افراد کو جلد از جلد تحفظ فراہم کرنا اور قانونی کارروائی میں تاخیر کے مسائل کو ختم کرنا ہے۔

4. متاثرہ فرد کے حقوق

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 متاثرہ افراد کے حقوق کو بھی واضح کرتا ہے:
متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہے
ضرورت پڑنے پر جوابدہ فریق متبادل رہائش فراہم کرے گا یا شیلٹر ہوم مہیا کیا جائے گا
عدالت تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ فرد سے دور رہنے کے احکامات جاری کر سکتی ہے
تشدد کرنے والے شخص کو نگرانی کے لیے جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت دی جا سکتی ہے

5. معاشرتی اثرات اور اہمیت

یہ قانون پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف ایک مضبوط اور جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ ملے گا بلکہ معاشرے میں گھریلو تشدد کے خلاف شعور اور ذمہ داری کے رویے بھی فروغ پائیں گے۔ خاص طور پر یہ قانون معذور، بزرگ، بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

6. چیلنجز اور نفاذ

اگرچہ قانون بہت جامع ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے چند اہم چیلنجز ہیں:
عوام میں قانون کے بارے میں شعور کی کمی
شیلٹر ہومز اور ریسکیو مراکز کی محدود دستیابی
گھریلو تشدد کے معاملات میں سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں
ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے حکومت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ قانون نہ صرف دستاویزی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی مؤثر ثابت ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین