لاہور(خصوصی رپورٹ :رمیض حسین)اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ گھروں سے بھاگنے والے بچے اور بچیاں کسی ایک وجہ نہیں بلکہ متعدد معاشی، سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق کم عمر بچوں کے گھر چھوڑنے کی بڑی وجوہات میں بیروزگاری، غربت، خوراک کی کمی، والدین کی سختی، گھریلو جھگڑے، زبردستی مشقت، سوشل میڈیا کا غیر حقیقی طرزِ زندگی، عشق و محبت اور بہتر مستقبل کے خواب شامل ہیں، جو انہیں اپنے ہی گھروں سے دور جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ریلوے اسٹیشن گھروں سے فرار ہونے والے بچوں اور بچیوں کی عارضی پناہ گاہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں پہنچنے والے کم عمر لڑکے لڑکیاں مختلف مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔ ریلوے پولیس نے سال 2025 کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 658 بچوں کو تحویل میں لے کر ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق بازیاب ہونے والوں میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں، جو گھریلو حالات سے تنگ آ کر یا بہتر زندگی کے خواب لیے مختلف ریلوے اسٹیشنز تک پہنچے۔ پولیس کے مطابق بچیوں کی عمریں 15 سے 18 سال جبکہ لڑکوں کی عمریں 14 سے 17 سال کے درمیان تھیں، تاہم زیادہ تعداد 12 سے 15 سال کے بچوں کی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں بچوں نے انکشاف کیا کہ گھروں سے فرار کی بڑی وجوہات میں بیروزگاری، غربت، خوراک کی کمی، والدین کی سختی، زبردستی مشقت، گھریلو جھگڑے، سوشل میڈیا کا اثر، عشق و محبت اور بہتر لائف اسٹائل کے خواب شامل ہیں۔ کئی بچے رشتہ داروں تک پہنچنے کی کوشش میں نکلے جبکہ بعض ریلوے اسٹیشنز پر ہی دن گزارنے پر مجبور رہے۔
ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ تحویل میں لے کر نہ صرف والدین کے حوالے کیا گیا بلکہ انہیں مستقبل میں ایسے اقدامات سے بچانے کے لیے آگاہی بھی فراہم کی گئی۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے اسٹیشن عام طور پر آمد و رفت، ملاقاتوں اور جدائیوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں، مگر پاکستان کے بڑے شہروں میں یہی مقامات اب ایک اور تلخ حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ گھروں سے فرار ہونے والے کم عمر بچے اور بچیاں، جن کے لیے ریلوے اسٹیشن عارضی پناہ گاہ بن چکے ہیں، ہمارے معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
سال 2025 میں ریلوے پولیس کی جانب سے 658 لڑکے لڑکیوں کو مختلف اسٹیشنز سے تحویل میں لے کر ان کے ورثا کے حوالے کیا جانا محض ایک عددی رپورٹ نہیں، بلکہ یہ ایک گہرے سماجی بحران کی علامت ہے۔ ان بچوں کی عمریں 12 سے 18 سال کے درمیان ہیں، یعنی وہ عمر جب تعلیم، تربیت اور تحفظ سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہی عمر سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار نظر آتی ہے۔
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچے ضد یا نافرمانی میں گھر چھوڑ دیتے ہیں، مگر جب تفتیش کی جاتی ہے تو اصل وجوہات کہیں زیادہ سنگین اور تکلیف دہ سامنے آتی ہیں۔ بیروزگاری، غربت، خوراک کی کمی، والدین کی سختی، گھریلو جھگڑے، زبردستی مشقت اور تعلیم سے محرومی ایسے عوامل ہیں جو بچوں کو گھر کے ماحول سے بدظن کر دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا غیر حقیقی اور چمک دار تصورِ زندگی بھی بچوں کے ذہنوں میں ایک فریب پیدا کرتا ہے۔ موبائل اسکرین پر نظر آنے والی آسائشیں، آزادی اور رومانوی کہانیاں انہیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ گھر چھوڑ دینا مسائل کا حل ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
یہ ایک المیہ ہے کہ بچے تحفظ کے لیے جن مقامات کا رخ کرتے ہیں، وہ خود خطرات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ریلوے اسٹیشنز پر نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی ہوتی ہے بلکہ منشیات، جنسی استحصال، جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ جیسے خطرات بھی منڈلاتے رہتے ہیں۔ کم عمر بچے ان خطرات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ریلوے پولیس کا کردار محض قانون نافذ کرنے والے ادارے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک سماجی محافظ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ بچوں کو بازیاب کرا کے ورثا کے حوالے کرنا ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف واپس پہنچا دینا کافی ہے؟
اصل مسئلہ بچوں کا فرار نہیں، بلکہ وہ حالات ہیں جو انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب تک گھروں میں معاشی دباؤ، والدین کی ذہنی الجھنیں، عدم برداشت، اور بچوں کی نفسیاتی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا، یہ مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین کو تربیتی اور آگاہی پروگرامز کے ذریعے بچوں سے بہتر برتاؤ سکھایا جائے۔سکولوں میں کونسلنگ سسٹم کو فعال کیا جائے۔چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کو ریلوے اسٹیشنز اور بس اڈوں پر مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے۔سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کی جائے۔غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ریاستی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں
گھروں سے بھاگنے والے بچے دراصل کسی ایک فرد یا خاندان کی ناکامی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ناکامی کا عکس ہیں۔ اگر آج یہ بچے ریلوے اسٹیشنز پر نظر آ رہے ہیں تو کل یہی بچے جرائم، استحصال یا گم نامی کی دلدل میں بھی جا سکتے ہیں۔
یہ وقت محض گرفتاریوں یا واپسیوں کا نہیں، بلکہ سوال اٹھانے، سننے اور حل نکالنے کا ہے۔ بچوں کو ڈانٹ نہیں، توجہ چاہیے؛ سزا نہیں، تحفظ چاہیے؛ اور خواب نہیں توڑنے، بلکہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔





















